خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں پشاور، مردان، چارسدہ، کوہاٹ، بنوں اور ہنگو میں یومِ تشکر کے سلسلے میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں شہریوں اور تاجروں نے مٹھائیاں تقسیم کرکے خوشی کا اظہار کیا۔ ہنگو میں تاجر تنظیموں کی جانب سے ریلی نکالی گئی، جبکہ شرکا نے ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور پی ٹی آئی کے دورِ حکومت کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ہنگو میں تاجروں کی ریلی
ہنگو میں یومِ تشکر کے موقع پر مختلف تاجر یونینز کی جانب سے ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت تاجر یونین کے صدر ظفر اقبال نے کی۔ ریلی مین چوک سے شروع ہوئی اور مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی اسٹیشن چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔
ریلی میں تاجروں اور شہریوں نے شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق شرکا کی تعداد تقریباً 200 سے 225 کے درمیان تھی۔ اس موقع پر شہریوں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں پلے کارڈز کی نمائش کی گئی جبکہ پاک فوج کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔
تقریبات کے دوران پی ٹی آئی حکومت کے سابقہ دورِ اقتدار پر تنقید کی گئی اور ایمرجنسی کے نفاذ کو خوش آئند قرار دینے کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے اپنے پلے کارڈز کے ذریعے اپنے سیاسی مؤقف کا اظہار کیا، جبکہ مٹھائیاں تقسیم کرکے یومِ تشکر منایا گیا۔
ہنگو میں تاجر تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی ریلی میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے حمایت کا اظہار نمایاں رہا۔ تاجروں اور شرکا نے اس موقع کو اپنے سیاسی خیالات اور مطالبات سامنے لانے کے لیے استعمال کیا۔
دیگر شہروں میں بھی تقریبات
پشاور، مردان، چارسدہ، کوہاٹ اور بنوں سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر شہروں میں بھی یومِ تشکر کے حوالے سے تقریبات اور مٹھائیاں تقسیم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان سرگرمیوں کے دوران پاک فوج کے حق میں نعرے بھی لگائے گئے۔
مختلف شہروں میں ہونے والی ان تقریبات میں مٹھائیوں کی تقسیم اور اظہارِ تشکر کی سرگرمیاں نمایاں رہیں، جبکہ ہنگو میں تاجر یونینز کی ریلی اس سلسلے کی اہم سرگرمیوں میں شامل تھی۔
یومِ تشکر کا مقصد
ان تقریبات کے ذریعے شرکا نے ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کیا اور پی ٹی آئی کے سابقہ دورِ حکومت پر تنقید کی۔ ہنگو میں ریلی کے انعقاد، شہریوں میں مٹھائیاں تقسیم کرنے اور پلے کارڈز کی نمائش کے ذریعے یومِ تشکر منایا گیا۔