سیاست میں جب عوامی مقبولیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کی اصل آزمائش چار دیواری کے اندر جلسوں سے زیادہ سڑکوں اور چوک چوراہوں پر ہوتی ہے لیکن حال ہی میں صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد دارالحکومت پشاور اور سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اپنے آبائی علاقے ضلع خیبر سے جو مناظر سامنے آئے ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کے مقبولیت کے تمام تر دعوؤں سے ہوا نکال دی ہے ۔
پشاور سے خیبرتک سیاسی جنازہ
سوشل میڈیا پر طوفان اٹھانے اور لاکھوں کے ‘عوامی سمندر’ کے دعوے کرنے والوں کا سڑکوں پر سیاسی جنازہ نکل گیا ، تقریباً 60 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل تاریخی شہر پشاور جسے پی ٹی آئی کا مضبوط ترین سیاسی قلعہ سمجھا جاتا تھا، وہاں سے احتجاج کی کال پر پورے شہر سے محض 16 لوگ سڑکوں پر نکلے ،جی ہاں صرف 16 ، لاکھوں کی آبادی میں سینکڑوں بھی نہیں ؟ یا کم ازکم درجنوں ہی نکل آتے تاکہ پی ٹی آئی کی دم توڑتی سیاست کے جنازے کو کاندھا ہی مل جاتا ۔
یہ منظر دیکھ کر ہر آنکھ حیران ہے کہ آخر وہ لاکھوں کا ’عوامی سمندر‘ کہاں غائب ہو گیا جس کے قصے روزانہ پریس کانفرنسوں میں سنائے جاتے ہیں؟ کہاں گئے وہ لاکھوں کے مجمع جنہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانی تھی جنہوں نے اڈیالہ میں بیٹھے قیدی کو رہائی دلوانی تھی لیکن وہ تو خود راہ فرار اختیار کر بیٹھے ہیں ۔
اس سے بھی زیادہ دلچسپ صورتحال وزیراعلیٰ کے اپنے آبائی ضلع اور حلقہ خیبر جمرود میں دیکھنے کو ملی ، وہ ضلع جہاں سے وزیراعلیٰ سمیت قومی و صوبائی اسمبلی کے 4 اراکین کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے ، وہاں احتجاجی مظاہرے میں گنتی کے صرف 30 افراد موجود تھے ، چار منتخب نمائندے، تمام تر سرکاری اور سیاسی وسائل کے باوجود نتیجہ؟ صرف تیس بندے ، لاکھوں اور کروڑوں افراد اکٹھے کرنے کے دعوے کرنیوالے خود سہیل آفریدی کے آبائی گھر کے باہر احتجاج کے لیے بھی کارکن نہ ہونے کے برابر۔
جو بظاہر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کم لیکن اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز زیادہ بنانے میں مصروف رہے یعنی مستی اور بیگانگیت کا یہ عالم ہے اور کیوں نہ ہو پی ٹی آئی قیادت نے آخر عوام کیلئے کیا ہی کیا سوائے انتشاراور سڑکوں کی سیاست کے جس میں عوام خوار ہوکر رہ گئے ۔
وزیراعلی سہیل آفریدی کے آبائی ضلع میں بابِ خیبر کے نیچے مقبول جماعت کے 30 کارکن احتجاج کم اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف۔۔۔ https://t.co/wGnADGQdJX
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) October 12, 2026


