خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں پولیس پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے بعد فائرنگ کرنے والے افراد فرار ہوگئے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی فیصلے کے تناظر میں پیش آنے والے اس واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے خطرات اور قانون کی عمل داری کے حوالے سے اقدامات کے بعد باڑہ میں پولیس کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایسے وقت میں جب صوبے میں سکیورٹی انتظامات سخت کرنے اور دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی مرتب کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے، پولیس پر فائرنگ نے صورتحال کی حساسیت مزید بڑھا دی ہے۔
تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی پالیسیوں اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر پہلے ہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ صوبے میں امن قائم رکھنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر معاونت فراہم کرنے میں ناکامی کے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی حکومت کے ایمرجنسی سے متعلق فیصلے کے بعد باڑہ میں پیش آنے والا واقعہ بھی اسی وسیع تر سکیورٹی تناظر میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
تاہم فائرنگ کرنے والے افراد کی تحریک انصاف سے وابستگی یا واقعے کو ایمرجنسی کے خلاف منظم ردعمل قرار دینے کے لیے تاحال قابلِ تصدیق شواہد درکار ہیں۔ اس پہلو کی تصدیق تحقیقات اور متعلقہ حکام کے مؤقف سے ہی ہوسکے گی۔
دوسری جانب صوبے میں مجموعی حالات اور معمولات زندگی کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے لیے سب سے اہم امر امن کا قیام، کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل اور آمدورفت میں رکاوٹوں کا خاتمہ ہے۔ سکیورٹی اقدامات کا مقصد بھی یہی ہے کہ کسی کو تشدد، دباؤ یا سیاسی انتشار کے ذریعے قانون کی عمل داری متاثر کرنے کی اجازت نہ ہو۔
باڑہ واقعے کے بعد توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ پولیس پر فائرنگ میں ملوث افراد کی شناخت کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔