دنیا کا انوکھا آتش فشاں جو روزانہ سونا اگلتا ہے

دنیا کا انوکھا آتش فشاں جو روزانہ سونا اگلتا ہے

دنیا میں قدرت کے کئی ایسے عجائبات موجود ہیں جو سائنسدانوں کو بھی حیران کر دیتے ہیں۔ انٹارکٹیکا میں واقع ماؤنٹ ایریبس بھی ایک ایسا ہی فعال آتش فشاں ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ گرم گیسوں کے ساتھ سونے کے انتہائی باریک ذرات بھی خارج کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایریبس سے نکلنے والی گیسوں میں سونے کے خوردبینی ذرات شامل ہوتے ہیں، جن کا حجم تقریباً 0.1 سے 20 مائیکرون تک ہو سکتا ہے۔ یہ ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ انہیں عام آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔

آتش فشاں سے سونا کیسے خارج ہوتا ہے؟

جب آتش فشاں کے اندر موجود گرم گیسیں باہر نکلتی ہیں تو ان کے ساتھ مختلف معدنی اجزا بھی خارج ہو سکتے ہیں۔ ماؤنٹ ایریبس کے حوالے سے سونے کے باریک ذرات کا ذکر بھی اسی قدرتی عمل کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔ یہ آتش فشاں انٹارکٹیکا کے انتہائی سرد ماحول میں واقع ہے، جہاں شدید موسم اور دشوار گزار حالات سائنسی تحقیق کو بھی مشکل بنا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کا وہ جزیرہ جہاں جانے سے پہلے لوگ کئی بار سوچتے ہیں، آخر یہاں ایسا کیا ہے

ماؤنٹ ایریبس کی سب سے منفرد خصوصیت

ماؤنٹ ایریبس دنیا کے ان چند فعال آتش فشانوں میں شامل ہے جن کے دہانے میں مستقل لاوا جھیل موجود رہنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کی مسلسل آتش فشانی سرگرمی اسے سائنسدانوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل بناتی ہے۔

اس پہاڑ سے خارج ہونے والے ذرات کے دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے بارے میں بھی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم سونے کے ذرات کے روزانہ اخراج، ان کی مالیت اور ایک ہزار کلومیٹر تک پھیلاؤ سے متعلق مخصوص اعداد و شمار کی مستند سائنسی ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

ماؤنٹ ایریبس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زمین کے اندر ہونے والے قدرتی اور ارضیاتی عمل کتنے پیچیدہ ہیں۔ تاہم آتش فشاں سے سونے کے ذرات خارج ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں سے سونا آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے۔ شدید سردی، خطرناک آتش فشانی سرگرمی اور دشوار گزار جغرافیائی حالات اسے انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔

editor

Related Articles