ایمرجنسی، گورنر راج سے متعلق مخصوص مدت کی افواہیں بے بنیاد، نیا انتظامی بندوبست نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ اور مکمل امن کے حصول تک برقرار رہے گا‘ ذرائع

ایمرجنسی، گورنر راج سے متعلق مخصوص مدت کی افواہیں بے بنیاد، نیا انتظامی بندوبست نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ اور مکمل امن کے حصول تک برقرار رہے گا‘ ذرائع

خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو قائم ہونے والا نیا انتظامی سیٹ اَپ طے شدہ کارکردگی کے اہداف کی تکمیل تک برقرار رہے گا، جبکہ اس تبدیلی کے خلاف ممکنہ دہشتگردانہ مزاحمت سے سختی سے نمٹنے کا تہیہ کر لیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو قائم ہونے والے نئے انتظامی سیٹ اَپ کی مدت کے حوالے سے گردش کرنے والی مختلف قیاس آرائیوں اور ابہام کا اب سختی سے قلع قمع کر دیا گیا ہے۔

بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ متعلقہ قوانین اور طریقۂ کار میں ان انتظامات کی مدت محدود ہونے کے باعث یہ سیٹ اَپ زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گا۔

تاہم ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اب کسی قسم کے شک یا ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی کہ یہ انتظامی بندوبست اس وقت تک فعال رہے گا جب تک ان بنیادی مقاصد اور کارکردگی کے طے شدہ اہداف کو کامیابی سے حاصل نہیں کر لیا جاتا جن کے حصول کے لیے یہ اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کو ملک دشمن سوچ لے ڈوبی، وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت اب ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی، فیصل کریم کنڈی کا خطاب

جہاں تک قانونی تقاضوں کا تعلق ہے، وہ متعلقہ حلقوں کی طرف سے قانون اور ضابطے کے مطابق مقررہ اور مناسب وقت پر بخوبی پورے کیے جاتے رہیں گے۔

یہ بات خاص طور پر پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ دہشتگردی کے پورے نیٹ ورک اور اس کے ایکو سسٹم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا، تمام غیر قانونی سرگرمیوں کے دائرۂ کار کو ہمیشہ کے لیے سمیٹنا اور نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔

 ایسے بڑے، گہرے اور مشکل ترین اہداف کے حصول کے لیے محض عارضی اقدامات کافی نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے تسلسل، طویل وقت اور بھرپور توجہ کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ ریاست کا یہ نیا بندوبست انہی عزم اور اہداف کی تکمیل کی عملی تصویر ہے۔

متوقع ردعمل، دہشتگرد حملوں میں سہولتکاری کا خدشہ

دوسری جانب یہ بات بھی شنید اور متوقع ہے کہ نئے انتظامی سیٹ اَپ کے قیام کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)، افغان طالبان رجیم اور ان کے تمام اندرونی و بیرونی سیاسی اور معاشی سہولت کار اس نظام کو ناکام بنانے کے لیے اپنی پوری طاقت جھونک دیں گے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے اس نئے انتظامی بندوبست کے ابتدائی مرحلے میں دہشتگرد حملوں کی تعداد اور ان کے تواتر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ عناصر بخوبی جانتے ہیں کہ ان تمام تبدیلیوں کا بنیادی مقصد دہشتگردی کے اس پورے نیٹ ورک، اس کے معاون نظام اور سہولت کاروں کا صفایا کرنا ہے۔

 چنانچہ یہ عناصر اپنے مذموم مقاصد کے دفاع اور بقا کے لیے پوری شدت سے مزاحمت کریں گے، جس کے لیے انہیں ملک کے اندر اور بیرونِ ملک موجود اپنے سیاسی اور معاشی معاونین کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:اب پتا چلا کہ پی ٹی آئی حکومت سے عوام کتنے مایوس اور نالاں تھے، ایمرجنسی لگی تو خوشی میں خیبر پختونخوا کے چوکوں، چراہوں پر تہنیتی بینرز آویزاں کر دیے

خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے امن و امان کی خراب صورتحال، سیاسی کشمکش اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ریاستی رِٹ کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہوا تھا۔

صوبے میں انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں کو مؤثر بنانے اور دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے 11 اکتوبر کو ایک نیا انتظامی سیٹ اَپ اور ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔

ماضی میں سیاسی مفادات اور کمزور انتظامی پالیسیوں کے باعث دہشتگردی کے خلاف جراتمندانہ فیصلے کرنے میں رکاوٹیں حائل رہی ہیں، جس کی وجہ سے یہ نیا اور سخت انتظامی قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔

واضح رہے کہ صوبے میں قائم ہونے والا نیا انتظامی سیٹ اَپ اور اس کے تسلسل کا عزم اس بات کا غماز ہے کہ ریاست اب دہشتگردی کے معاملے پر کسی قسم کی کمزوری یا نرمی دکھانے کے موڈ میں نہیں۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا میں پہلے امن، پھر ترقی، ایڈوائزری کونسل کو گورنر فیصل کریم کنڈی کی ہدایت

جب بھی روایتی نظام کو چیلنج کر کے کوئی سخت اور اصلاحی قدم اٹھایا جاتا ہے، تو نظام کے اندر بیٹھے مفاد پرست عناصر اور کالعدم تنظیمیں اس کے خلاف شدید ردعمل دیتی ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور ان کے سہولت کاروں کی طرف سے حملوں میں اضافه‌ کا اندیشہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نیا بندوبست درست سمت میں اٹھایا گیا ایک انتہائی مؤثر قدم ہے۔

 اگر ریاست اس ابتدائی دباؤ اور مزاحمت کو برداشت کرتے ہوئے اپنے اہداف پر غیر متزلزل قائم رہی، تو نہ صرف دہشتگردی کے پورے نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ طویل مدتی امن کی پائیدار راہ بھی ہموار ہوگی۔

Related Articles