خیبر پختونخوا میں لاقانونیت اور دہشت گردی کیخلاف آج بڑے فیصلوں کا دن، وزیر داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں لاقانونیت اور دہشت گردی کیخلاف آج بڑے فیصلوں کا دن، وزیر داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچ گئے

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر اہم فیصلوں کی تیاری کرلی گئی ہے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کرنے اور حساس اضلاع میں سکیورٹی مزید سخت کرنے کے امور آج صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آئیں گے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پشاور پہنچ گئے ہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ گورنر فیصل کریم کنڈی اور دیگر سینئر حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے خطرات اور ان سے نمٹنے کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد امن و امان برقرار رکھنے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے اور دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے مربوط حکمت عملی پر بھی غور متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات زیر بحث آئیں گے۔ خیبر پختونخوا کے 12 حساس اضلاع میں سکیورٹی انتظامات اور فوج کی تعیناتی سے متعلق امور پر بھی غور کیا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا میں زندگی معمول پر، ٹریفک رواں دواں، دکانوں اور مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں بحال،حالات معمول کی طرف گامزن

اجلاس کی اہمیت اس تناظر میں بھی بڑھ گئی ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور امن و امان کی بحالی کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل واضح کیا جانا ہے۔ ماضی کے سکیورٹی اقدامات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے حاصل ہونے والے تجربات کی روشنی میں نئے اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے متعلق حتمی فیصلوں اور اقدامات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد واضح ہوگا کہ حساس اضلاع میں سکیورٹی مزید سخت کرنے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے کیا عملی حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles