امریکا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے فنڈ پر بات چیت جاری، معیشت رواں مالی سال 4 فیصد سےزیادہ  ترقی کرے گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

امریکا کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے فنڈ پر بات چیت جاری، معیشت رواں مالی سال 4 فیصد سےزیادہ  ترقی کرے گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی ترقی کے مثبت اشاریوں اور نجکاری کے نئے اہداف کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں معاشی استحکام کی نوید سنائی ہے اور کہا ہے کہ رواں سال ملکی معیشت 4 فیصد سے زیادہ ترقی کرے گی۔

بلومبرگ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید دباؤ، مہنگائی کی لہر اور بیرونی کھاتے کے چیلنجز سے نبرد آزما رہی ہے۔

ماضی میں سیاسی عدم استحکام اور عالمی معاشی جھٹکوں نے ملکی صنعت و تجارت کو متاثر کیا، جس کے بعد حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ نئے پروگرام اور ساختی اصلاحات کا راستہ اپنایا۔

یہ بھی پڑھیں:ملکی معیشت سے متعلق بڑی خوشخبری ،پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا نیا ریکارڈ بن گیا

موجودہ اقتصادی پالیسیوں کا بنیادی مقصد نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے بلکہ طویل مدتی ترقی کے لیے نجی شعبے کو آگے لانا بھی ہے تاکہ معیشت کو پائیدار بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔

بین الاقوامی مالی تعاون اور سفارتی پیشرفت

عالمی و علاقائی حالات کے تناظر میں پاکستان کی معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

اگر یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی مدد ثابت ہوگی، تاہم اس کے حصول میں کامیابی نہ ملنے کی صورت میں بھی بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی ہرگز متاثر نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی راہ ہموار ہو چکی ہے، جو زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

توانائی کے چیلنجز، ایندھن کی دستیابی اور مہنگائی کی نگرانی

ملکی توانائی کی ضروریات پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے ایندھن کی مناسب مقدار کامیابی کے ساتھ حاصل کر لی ہے، جس سے ملک کو ایندھن کی شدید قلت کے ممکنہ بحران سے کامیابی سے بچا لیا گیا ہے۔

حکومت عوام کو درپیش مہنگائی کے دباؤ سے بخوبی آگاہ ہے اور مہنگائی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قیمتوں میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔

نجکاری کے اہداف اور نجی شعبے کا کلیدی کردار

حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً ایک درجن سرکاری ادارے اس وقت نجکاری کے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں۔

حکومت کا رواں مالی سال کے دوران 5 سے 6 اداروں کی نجکاری سے 1 ارب ڈالر سے زیادہ کے وسائل حاصل کرنے کا واضح ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور اہم ہوائی اڈوں کے انتظامی امور نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:برآمدات پر مبنی معاشی ترقی اولین ترجیح، موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی فنڈز ناکافی ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

حکومت کا یہ مصمم ارادہ ہے کہ ملکی ترقی میں نجی شعبہ مرکزی کردار ادا کرے، جس کے لیے نجی سرمایہ کاری کو بھرپور فروغ دینے اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر اولین توجہ دی جا رہی ہے۔

ملکی معیشت کے موجودہ اعشاریے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زرعی شعبے کی تسلی بخش کارکردگی اور برآمدات میں استحکام کی بدولت رواں مالی سال کے دوران شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ 

سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل اگرچہ انتظامی اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے چیلنجنگ رہا ہے، لیکن اگر حکومت اپنے مقررہ ہدف کے تحت مؤثر انداز میں نجکاری مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف قومی خزانے پر پڑنے والا بوجھ کم ہوگا بلکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

نجی شعبے کو معیشت کا ڈرائیونگ انجن بنانے کی یہ پالیسی طویل مدتی اقتصادی خود کفالت کے حصول کے لیے ایک ناگزیر قدم ہے۔

Related Articles