وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شہریوں کی آمدورفت بحال رکھنے اور شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کھولنے کے لیے آئی جی اسلام آباد کیپٹن (ر) سہیل چوہدری نے شہر بھر کی اہم شاہراہوں سے کنٹینرز ہٹانے کا حکم جاری کردیا، جس کے بعد شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور مختلف اہم مقامات پر رکھے گئے کنٹینرز ہٹانے کا عمل شروع ہوگیا۔ کنٹینرز ہٹانے کے اقدام پر شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، جبکہ جڑواں شہروں میں کاروباری سرگرمیاں بھی معمول کے مطابق جاری ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کے مختلف داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر کنٹینرز رکھے گئے تھے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت کے حوالے سے مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ کئی روز سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری اس خدشے میں مبتلا تھے کہ لانگ مارچ کی آمد اور ممکنہ احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہوگا اور روزمرہ زندگی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔
آئی جی اسلام آباد کیپٹن (ر) سہیل چوہدری کی جانب سے کنٹینرز ہٹانے کے حکم کے بعد متعلقہ عملے نے شاہراہوں کو کھولنے کا کام شروع کردیا۔ اس اقدام سے شہریوں میں اطمینان کی فضا پیدا ہوئی ہے اور انہیں امید ہے کہ آمدورفت میں رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال سے نجات ملے گی۔
دوسری جانب شہر کی مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ دکانداروں اور تاجروں کے لیے بھی سڑکوں کی بندش اور احتجاج کے باعث کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ اہم تھا، کیونکہ شاہراہوں کی بندش سے نہ صرف خریداروں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے بلکہ سامان کی ترسیل اور روزمرہ کاروباری معاملات بھی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کے باوجود سڑکیں کھلی رہیں، ٹریفک رواں دواں ہو اور معمولات زندگی متاثر نہ ہوں۔ کنٹینرز ہٹانے کے عمل کو اسی تناظر میں شہریوں کے لیے ریلیف کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
شہریوں کے لیے اب اہم بات یہ ہے کہ شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور کسی بھی سیاسی سرگرمی کے باعث عوام کو دوبارہ غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کاروباری طبقے اور شہریوں کو توقع ہے کہ معمولات زندگی اسی طرح جاری رہیں گے اور دارالحکومت میں آمدورفت کا نظام بلا تعطل برقرار رہے گا۔