تہران میں سیاسی ہلچل! سپریم لیڈر سے 7 گھنٹےطویل ملاقات،ایرانی صدر کے چونکا دینے والے انکشافات

تہران میں سیاسی ہلچل! سپریم لیڈر سے 7 گھنٹےطویل ملاقات،ایرانی صدر کے چونکا دینے والے انکشافات

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے سات گھنٹے طویل ملاقات کی۔

 ملاقات میں انتظامی مسائل، حکومتی کارکردگی اور نظام حکمرانی میں اصلاحات کی ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی صدر نے یہ بات جامعات کی افتتاحی تقریب اور نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بتایا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد سات ماہ کے دوران سپریم لیڈر سے دو مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :شہباز شریف نے ایرانی صدر سے کیا کہہ دیا؟ اہم ملاقات کی اندرونی تفصیلات

مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کو درپیش مسائل کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامی کمزوریاں، اہل افراد کی قلت اور فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ انہوں نے حکومتی نظام میں بہتری لانے اور باصلاحیت افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اہل افراد کی کمی بڑا مسئلہ

ایرانی صدر نے کہا کہ ملک میں اہل اور باصلاحیت افراد کی کمی حکومتی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران میں وسائل اور امکانات موجود ہیں لیکن ان سے مؤثر فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر انتظامی صلاحیت درکار ہے۔

مسعود پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ درست فیصلے کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے انتظامی نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔

صدر نے نظام حکمرانی اور عوامی انتظامیہ میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق حکومتی اداروں میں اہل افراد کا انتخاب اور فیصلوں پر عمل درآمد بہتر بنائے بغیر انتظامی مسائل حل کرنا مشکل ہوگا۔

سرکاری اداروں کے انتظام پر تنقید

مسعود پزشکیان نے بعض سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے انتظامی طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سرکاری کمپنیوں میں ہونے والے کام کو انتظامی کارکردگی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ  سرکاری اداروں کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے انتظامی صلاحیت اور جواب دہی ضروری ہے۔ انہوں نے حکومتی نظام میں بہتری لانے کے لیے بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

 ایرانی صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو صرف وسائل کی دستیابی پر توجہ دینے کے بجائے ان کے استعمال اور انتظامی فیصلوں کے نتائج بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم صدر نے اپنی تقریر میں کسی مخصوص سرکاری کمپنی کا نام نہیں لیا۔

اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں میں رکاوٹیں

ایرانی صدر نے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے عمل میں پیش آنے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر حکومت کسی موزوں اور قابل شخص کو کسی اہم عہدے پر تعینات کرنا چاہتی ہے لیکن بعد میں عدلیہ یا دوسرے اداروں کی جانب سے اعتراضات سامنے آجاتے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایسے اعتراضات کے باعث تقرری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق حکومتی نظام میں بہتری کے لیے تقرریوں کے طریقہ کار اور اداروں کے درمیان معاملات کو مؤثر انداز میں چلانا ضروری ہے۔

صدر نے اس موقع پر اہل افراد کے انتخاب اور انتظامی فیصلوں پر عمل درآمد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق حکومتی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایسے مسائل کو دور کرنا ہوگا جو درست فیصلوں پر عمل درآمد میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

سات گھنٹے کی ملاقات کا ذکر

مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ طویل ملاقات کا ذکر دوسری مرتبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق صدر منتخب ہونے کے بعد سات ماہ کے عرصے میں دونوں کے درمیان دو ملاقاتیں ہوئیں۔

 یہ بھی پڑھیں :جنگ نہیں چاہتے لیکن مزاحمت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان کا امریکا کو واضح پیغام

صدر کی تقریر میں ان ملاقاتوں کے دوران زیر بحث آنے والے معاملات کی مکمل تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ تاہم انہوں نے حکومتی مسائل، انتظامی اصلاحات اور باصلاحیت افراد کی تقرری سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کا ذکر کیا۔

ایرانی صدر کے بیان میں حکومتی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے پر خاص زور دیا گیا۔ ان کے مطابق ایران کے مسائل کا حل صرف وسائل میں اضافے سے ممکن نہیں بلکہ بہتر انتظام، اہل افراد کے انتخاب اور فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

editor

Related Articles