وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے، طارق فضل چوہدری

وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے، طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، صوبائی حکومت کی اسے کنٹرول کرنے میں عدم دلچسپی اور ناکامی کے باعث آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے میں حکومت سے تعاون کرے گی۔

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے دہشت گردی کے حوالے سے ہمیشہ بھرپور جنگ لڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سیاسی اختلاف کی وجہ سے نہیں لگائی جا رہی بلکہ اس کی بنیادی وجہ صوبے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے اور وہاں کے عوام وفاقی حکومت کے لیے اتنے ہی اہم اور پیارے ہیں جتنے باقی تینوں صوبوں کے عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، شہری شہید ہو رہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اور افسران بھی اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا حکومت کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پولیس کی شہادتو کی تعداد بھی سب کے سامنے ہے، تاہم صوبائی حکومت دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اقدامات اٹھانے کے بجائے مسلسل سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا عندیہ دے دیا

انہوں نے کہا کہ جب سے موجودہ صوبائی حکومت اقتدار میں آئی ہے، وفاق سے ٹکراؤ اور اسلام آباد پر چڑھائی کے علاوہ اپنے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے بھی وہ بری طرح ناکام ہوئی ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی موجود ہے، تاہم وہاں کی حکومت اور وزیراعلیٰ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صورتحال مختلف ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے راستے میں صوبائی حکومت دیوار بنی ہوئی ہے۔

Related Articles