مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غیر محفوظ استعمال آئندہ سال سائبر حملوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں اے آئی کی مدد سے کیے جانے والے سائبر حملے دنیا کے لیے بڑے خطرات میں شامل ہو سکتے ہیں۔
بل گیٹس کے مطابق، اس وقت سب سے بڑا خدشہ یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت خود انسانوں کے قابو سے باہر ہو جائے گی، بلکہ اصل خطرہ ان افراد سے ہے جو اس ٹیکنالوجی کو نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسے عناصر حفاظتی نظام کو نظرانداز کرکے اے آئی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مزید مؤثر حفاظتی اقدامات اور مناسب ضابطہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کو سائبر حملوں اور حیاتیاتی دہشت گردی جیسے خطرناک مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
بل گیٹس نے خبردار کیا کہ اگر جدید اے آئی ماڈلز حفاظتی نظام کے بغیر غلط ہاتھوں میں پہنچ گئے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، خصوصاً سائبر سکیورٹی کے شعبے میں۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی اس سے قبل اگست میں بھی خبردار کر چکے ہیں کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے باعث آنے والی بڑی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔ ان کے مطابق، اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے روزگار سمیت زندگی کے مختلف شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بل گیٹس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف سے بھی اختلاف کیا کہ اے آئی کمپنیاں خود نگرانی اور ضابطہ بندی کے ذریعے ان خطرات کو مؤثر انداز میں قابو کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کی تیار کردہ خطرناک ٹیکنالوجیز میں شامل مصنوعی ذہانت کی نگرانی صرف متعلقہ کمپنیوں پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ معاشرے کو ممکنہ نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومتی نگرانی اور مؤثر حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔