پاکستان نے گاڑیوں کی صنعت کو برآمدات پر مبنی شعبے میں تبدیل کرنے کے لیے نئی آٹو پالیسی تیار کرلی ہے۔ پالیسی کے تحت آئندہ پانچ سال میں گاڑیوں کی برآمدات 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے منظوری کے بعد پالیسی کو حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ اقدامات میں الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی، مقامی آٹو پارٹس کی برآمدات میں اضافہ اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے لازمی برآمدی اہداف شامل ہیں۔
برآمدات کا ہدف
وزارت صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق نئی پالیسی میں گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو برآمدات بڑھانے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی آٹو انڈسٹری کو مقامی فروخت کے ساتھ عالمی منڈیوں سے بھی جوڑنا ہے۔
پالیسی میں آٹو پارٹس بنانے والی صنعت کے لیے بھی الگ ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مالی سال 2030-31 تک آٹو پارٹس کی برآمدات 1.2 ارب ڈالر تک پہنچانے کی تجویز ہے۔
کمپنیوں کو برآمدات بڑھانے کی ترغیب دینے کے لیے مالی مراعات بھی تجویز کی گئی ہیں۔ برآمدی مالیت کا 5 فیصد معاوضہ دینے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافی برآمدات پر مزید 10 فیصد مراعات دینے کی تجویز شامل ہے۔
اہداف پورے نہ ہوئے تو جرمانے
نئی پالیسی میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے لیے برآمدی اہداف پورے کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز ہے۔ مقررہ اہداف حاصل نہ کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جا سکیں گے۔
اگر کوئی کمپنی مسلسل دو سال تک برآمدی اہداف پورے نہیں کرتی تو اس کا مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مسلسل ناکامی کی صورت میں کمپنیوں کو دی جانے والی مراعات بھی واپس لی جا سکیں گی۔
ان اقدامات کا مقصد کمپنیوں کو مقامی مارکیٹ پر انحصار کم کرنے اور عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی طرف راغب کرنا ہے۔ تاہم، ان تجاویز پر عمل درآمد حتمی پالیسی کی منظوری اور متعلقہ ضوابط سے مشروط ہوگا۔
الیکٹرک گاڑیوں پر توجہ
مجوزہ پالیسی میں 15 ہزار ڈالر سے کم مالیت کی چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں پر کم ٹیرف کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں کی دستیابی بہتر بنانا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے فنانسنگ کی حد بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ موجودہ 30 لاکھ روپے کی حد کو بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے اور قرض کی مدت تین سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اگر ان تجاویز کی منظوری مل جاتی ہے تو صارفین کو مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے نسبتاً زیادہ مالی سہولت مل سکتی ہے۔ تاہم، فنانسنگ کی نئی حد اور مدت کا حتمی اطلاق متعلقہ مالیاتی شرائط کے مطابق ہوگا۔
لیوی سے آمدن
پالیسی کے تحت ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مد میں پانچ سال کے دوران 232 ارب روپے سے زائد آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق لیوی سے حاصل ہونے والی رقم برآمدی مراعات اور صنعتی ترقی کے پروگراموں پر خرچ کی جائے گی۔ اس کے ذریعے مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈیوں میں مقابلے کی اہلیت بہتر بنانے کا منصوبہ ہے۔
آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی سے متعلق قانون دسمبر 2026 تک تیار کرنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ اس قانون سازی کے بعد لیوی کے نفاذ اور آمدن کے استعمال کے لیے قانونی طریقہ کار متعین کیا جا سکے گا۔
ٹیکنالوجی اور تحقیق
نئی آٹو پالیسی میں مقامی آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی صنعت کو جدید پیداواری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
پالیسی میں پاکستان آٹوموٹیو ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آٹو سیکٹر میں تحقیق، سرٹیفکیشن اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ان اقدامات کے ذریعے مقامی گاڑیوں اور پرزہ جات کے معیار کو بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے لیے بھی نئے اہداف مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
حفاظتی ضوابط
مجوزہ پالیسی میں مقامی طور پر تیار اور درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر عالمی حفاظتی ضوابط نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آٹو کمپنیوں کے معاہدوں میں خریداروں کے تحفظ سے متعلق شرائط شامل کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
آٹو سیکٹر کا سال میں دو مرتبہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس عمل کے ذریعے صنعت کے مختلف معاملات، معیار اور متعلقہ ضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔
صنعت کے لیے اہم موڑ
نئی آٹو پالیسی میں برآمدات، الیکٹرک گاڑیوں، صنعتی ٹیکنالوجی اور صارفین کے تحفظ کو ایک ساتھ اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے تحت کمپنیوں کو مراعات کے ساتھ اہداف پورے کرنے کا پابند بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
تاہم، 6 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے پالیسی کی حتمی منظوری، سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور عالمی منڈیوں تک رسائی اہم عوامل ہوں گے۔ کابینہ کی منظوری اور عملی اقدامات کے بعد ہی واضح ہوگا کہ مجوزہ اہداف کس حد تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔