سائنس کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سائنس دانوں نے پہلی بار مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیے گئے وائرس ایک انسانی مریض کے علاج کے لیے استعمال کیے ہیں۔ اس تجرباتی علاج کا مقصد ایسے خطرناک بیکٹیریا کو ختم کرنا ہے جن پر عام اینٹی بایوٹکس اور پہلے سے دستیاب علاج مؤثر ثابت نہیں ہو رہے تھے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی بایوٹیکنالوجی کمپنی ریڈیکل نیومیرکس نے 20 اکتوبر کو اس تجرباتی علاج کا اعلان کیا۔ کمپنی نے ایسے وائرس تیار کیے ہیں جو ای کولی نامی بیکٹیریا کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
تاہم، کمپنی نے مریض اور اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ مریض کی صحت میں بہتری آئی ہے یا انفیکشن مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
اس تجربے میں بیکٹیریوفیجز، جنہیں مختصراً فیجز کہا جاتا ہے، استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ایسے وائرس ہوتے ہیں جو مخصوص بیکٹیریا کو متاثر کرکے انہیں تباہ کرسکتے ہیں۔
ریڈیکل نیومیرکس نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظام اومنی کی مدد سے ٹی سیون نامی وائرس میں تبدیلیاں کیں۔ یہ وائرس عام طور پر ای کولی بیکٹیریا کو نشانہ بناتا ہے۔
کمپنی کے مطابق، اے آئی نظام نے وائرس کے ان حصوں کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا جو بیکٹیریا سے جڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد ایسے بیکٹیریا کی اقسام کو بھی نشانہ بنانا تھا جن پر پہلے سے دستیاب فیج وائرس مؤثر نہیں تھے۔
اس کے بعد سائنس دانوں نے تیار کردہ جینیاتی خاکوں کی مدد سے وائرس بنائے اور لیبارٹری میں ان کی جانچ کی۔ تجربات میں دیکھا گیا کہ تبدیل شدہ وائرس ہدف بنائے گئے بیکٹیریا کو متاثر کرکے تباہ کرسکتے ہیں۔ مریض کے علاج کے لیے استعمال سے پہلے حفاظتی جانچ بھی کی گئی۔
امریکی ادارے نے تجرباتی علاج کی اجازت دے دی
میڈیا رپورٹ کے مطابق، امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس تجرباتی علاج کی اجازت دی۔ تاہم، اس اجازت کا مطلب یہ نہیں کہ علاج کی کامیابی ثابت ہوچکی ہے۔ کمپنی نے ابھی تک مریض کی صحت سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ اس تحقیق کے نتائج کسی سائنسی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کا آزاد ماہرین سے باقاعدہ جائزہ لیا گیا ہے۔
اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اے آئی سے تیار کردہ وائرس انسانوں میں اس قسم کے انفیکشن کا محفوظ اور مؤثر علاج ثابت ہوں گے۔
اس تحقیق کی بنیاد کہاں سے پڑی؟
اس پیش رفت کی بنیاد کیلیفورنیا کے آرک انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والی تحقیق سے جڑی ہے۔ 2025 میں محققین نے ایوو ٹو نامی اے آئی ماڈل پر کام کیا، جسے وائرس سمیت مختلف جانداروں کے لاکھوں ڈی این اے سلسلوں کی مدد سے تربیت دی گئی تھی۔
تحقیق کے دوران اے آئی نے تقریباً سات لاکھ وائرل جینیاتی خاکے تیار کیے۔ سائنس دانوں نے ان میں سے 285 ڈیزائن منتخب کرکے لیبارٹری میں آزمائے، جن میں سے 16 سے قابل عمل وائرس تیار ہوئے۔
اس منصوبے سے وابستہ تین محققین نے بعد میں ریڈیکل نیومیرکس قائم کی۔ جون 2026 میں کمپنی نے اومنی AI نظام متعارف کرایا، جو ڈی این اے، پروٹین کی ساخت اور دیگر حیاتیاتی معلومات کا تجزیہ کرسکتا ہے۔
کمپنی مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو کینسر کی ویکسین تیار کرنے اور ممکنہ وباؤں کے خطرات کی شناخت کے لیے بھی استعمال کرنے پر کام کر رہی ہے۔
کیا اےآئی چند دنوں میں انفیکشن کا علاج تیار کرسکے گا؟
اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت کرنے والے بیکٹیریا دنیا بھر میں صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ بعض انفیکشنز میں روایتی ادویات مؤثر ثابت نہیں ہوتیں، جس کے باعث متبادل علاج کی تلاش ضروری ہوجاتی ہے۔
عام فیج تھراپی میں کسی مخصوص بیکٹیریا کو ختم کرنے کے قابل وائرس تلاش کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ ریڈیکل نیومیرکس کا خیال ہے کہ اےآئی کی مدد سے ایسے وائرس ڈیزائن کرنے کا عمل تیز کیا جاسکتا ہے اور مستقبل میں بعض مریضوں کے لیے مخصوص علاج چند دنوں میں تیار کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔
تاہم، یہ ابھی ایک امکان ہے، ثابت شدہ طبی سہولت نہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کے لیے مزید تحقیق، انسانی مریضوں میں حفاظتی جانچ اور علاج کی افادیت کے ٹھوس شواہد درکار ہوں گے۔