دنیا کا انوکھا جنگل، جہاں 47 ہزار درختوں کی جڑ ایک ہی ہے

دنیا کا انوکھا جنگل، جہاں 47 ہزار درختوں کی جڑ ایک ہی ہے

امریکی ریاست یوٹاہ میں ایک ایسا حیرت انگیز جنگل موجود ہے جس کے ہزاروں درخت بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ سب ایک ہی جڑ کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس قدرتی عجوبے کو ’پینڈو‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’میں پھیلتا ہوں‘۔ پینڈو عام جنگلات کی طرح درختوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ہی جاندار کا وسیع نظام ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، یہاں تقریباً 47 ہزار سے زائد تنے زمین کے نیچے پھیلے ایک مشترکہ جڑ کے نظام سے جڑے ہیں۔ جینیاتی اعتبار سے یہ تمام تنے ایک ہی جاندار کا حصہ ہیں، جو تقریباً 106 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

اس جنگل کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی غیر معمولی عمر ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق، پینڈو ہزاروں سال سے موجود ہے اور اس کی عمر تقریباً 80 ہزار سال تک ہو سکتی ہے۔ اس دوران یہ قدرتی نظام مختلف موسمی تبدیلیوں، سخت سردی اور جنگلات میں لگنے والی آگ جیسے حالات کا سامنا کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ریل کی تاریخ کا منفرد تجربہ، دنیا کی سب سے لمبی مال گاڑی کا ریکارڈ

پینڈو کی بقا کا ایک اہم راز اس کا زیرِ زمین جڑوں کا نظام ہے۔ جب آگ سے زمین کے اوپر موجود تنے تباہ ہو جاتے ہیں تو زیرِ زمین جڑیں محفوظ رہنے کی صورت میں دوبارہ نئے تنے پیدا کر سکتی ہیں۔ یہی صلاحیت اسے طویل عرصے تک برقرار رہنے میں مدد دیتی ہے۔

اس قدرتی عجوبے کا مجموعی وزن 6 ہزار ٹن سے زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے دنیا کے سب سے بھاری جانداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاہم، اتنی طویل عمر اور غیر معمولی صلاحیتوں کے باوجود پینڈو کو آج خطرات کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیاں، خشک سالی، چرنے والے جانور اور نئے تنوں کی نشوونما میں رکاوٹ اس کے مستقبل کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

پینڈو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت میں زندگی کی کچھ شکلیں ہماری سوچ سے کہیں زیادہ حیرت انگیز ہیں۔ ہزاروں تنوں کی صورت میں نظر آنے والا یہ جنگل دراصل ایک ہی جاندار ہے، جو زمین کے نیچے اپنی مشترکہ جڑوں کے ذریعے زندگی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

editor

Related Articles