136 سال پرانی پینٹنگ کا معمہ حل؟ سائنس دانوں نے آسمان کا سراغ لگا لیا

136 سال پرانی پینٹنگ کا معمہ حل؟ سائنس دانوں نے آسمان کا سراغ لگا لیا

دنیا کی مشہور ترین پینٹنگز میں شمار ہونے والی ’دی اسٹاری نائٹ‘ کے بارے میں سائنس دانوں نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔

 نئی تحقیق کے مطابق اس پینٹنگ میں دکھائے گئے آسمان کا تعلق 22 جولائی 1889 کے آس پاس فرانس کے علاقے سینٹ ریمی میں طلوعِ آفتاب سے پہلے کے منظر سے ہو سکتا ہے۔

معروف مصور ونسنٹ وین گوو نے 1889 میں یہ شاہکار تخلیق کیا تھا۔ اس پینٹنگ میں نیلے آسمان پر گھومتی ہوئی لہریں، روشن ستارے اور چمکتا ہوا چاند اسے دنیا بھر میں منفرد شناخت دیتے ہیں۔ تاہم، طویل عرصے سے ماہرین اس بات پر تحقیق کر رہے تھے کہ کیا اس میں حقیقی آسمانی منظر پیش کیا گیا ہے یا یہ مصور کے تخیل کی عکاسی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایپل صارفین کے لیے بڑی خبر، آئی فون 18 کی قیمت اور نئے فیچرز لیک ہوگئے

ماہرینِ فلکیات نے ماضی میں بھی اس پینٹنگ کا سائنسی تجزیہ کیا تھا، لیکن 1980 کی دہائی میں سامنے آنے والی 2 اہم تحقیقات کے نتائج ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ اس اختلاف کے بعد پینٹنگ کے سائنسی پہلو کے بجائے اس کے علامتی اور فنکارانہ مفہوم پر زیادہ توجہ دی جانے لگی۔

تازہ تحقیق کا خیال جنوبی کوریا کی کیونگ ہی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے والے محقق ایلیاہ جیونگ ہیون کم کو اس وقت آیا جب انہوں نے پینٹنگ میں دکھائے گئے آسمان کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ان کے مطابق، اس منظر میں موجود ستاروں کا جھرمٹ برجِ ثور میں واقع ہایڈیز سے مشابہت رکھتا ہے، جبکہ سابقہ تحقیقات میں اسے برجِ حمل سے منسوب کیا گیا تھا۔

محققین نے پینٹنگ کی تخلیق کے مقام کا تعین کرنے کے بعد اس میں موجود ستاروں کی ترتیب اور شکلوں کا تجزیہ کیا۔ اس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا پینٹنگ میں نمایاں 5 مرکزی ستارے اس مخصوص رات کے حقیقی آسمانی منظر سے مطابقت رکھتے تھے یا نہیں۔

تحقیق میں ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا۔ محققین کے مطابق، وین گوو نے اس پینٹنگ کے بعد جو قلمی خاکہ بنایا تھا، وہ اس وقت کے آسمان سے مزید قریبی مماثلت رکھتا ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی نئی وضاحت پیش کرتی ہے کہ وین گوو نے اپنے فن میں قدرتی مناظر کو کس طرح شامل کیا۔ تاہم، پینٹنگ میں حقیقت اور مصور کے تخیل کا کتنا حصہ ہے، اس سوال پر مزید تحقیق کی گنجائش موجود ہے۔

editor

Related Articles