قومی احتساب عدالت نے خیبر پختونخوہا میں اپر کوہستان ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے 37 ارب روپے سے زیادہ کے کرپشن کیس میں ایک پرائیویٹ ٹھیکیدار کی 20 ملین روپے کی پلی بارگین منظور کرتے ہوئے اسے کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہونے کی صورت میں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جمعہ کو احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے ہائی پروفائل مالیاتی بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ملزم اور پرائیویٹ ٹھیکیدار سیف اللہ کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے رہا کر دیا جائے اور قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 15 کے تحت اسے تمام مالیاتی ذمہ داریوں سے ڈسچارج کرتے ہوئے کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فضل الرحمان نے جو کمایا، کرپشن سے کمایا، اب حساب دینا ہوگا، شہریوں کا احتساب کا مطالبہ
عدالت کے روبرو ملزم نے تسلیم کیا کہ اس نے قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ساتھ یہ پلی بارگین معاہدہ اپنی مرضی، مکمل رضامندی اور بغیر کسی دباؤ یا جبر کے طے کیا ہے۔
دورانِ کارروائی یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے 11 ستمبر 2026 کو 2 پے آرڈرز کے ذریعے مجموعی طور پر 20 ملین روپے کی کل واجب الادا رقم ادا کر دی تھی۔
جعلی فرمنگ اور بوگس ادائیگیوں کا مکروہ نیٹ ورک
داسو اپر کوہستان کے رہائشی ملزم نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ اس نے اس فراڈ اسکینڈل میں اپنی سول پروپرائٹرشپ ’کوہستان اینڈ کمپنی‘ کے نام سے ٹھیکیدار کے طور پر کام کیا اور کمپنی کے بینک اکاؤنٹ کو انتہائی نجی اور فراڈ مقاصد کے لیے چلایا۔
اس کمپنی کے تحت کوئی بھی حقیقی سول یا تعمیراتی کام انجام نہیں دیا گیا تھا، بلکہ یہ فرضی ادارہ محض غیر قانونی ادائیگیوں کو بوگس طریقوں سے کیش کروانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
نیب کے اسپیشل پراسکیوٹر مانک شاہ اور تفتیشی افسر ایس پی عنایت اللہ نے عدالت میں پیش ہو کر قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 25 بی اور دفعہ 15 کے تحت ملزم کی پلی بارگین کی منظوری کی درخواست دائر کی، جس پر نیب چیئرمین نے 14 اکتوبر 2026 کو باقاعدہ منظوری دی تھی۔
نیب کی تحقیقات اور کرپشن کا گٹھ جوڑ
نیب حکام کے مطابق اس سنگین مالیاتی فراڈ میں اپر کوہستان کے مواصلات و تعمیرات یعنی کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے حکام، اپر کوہستان ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے ملازمین، نیشنل بینک آف پاکستان کی داسو برانچ کے کارندے اور متعدد پرائیویٹ ٹھیکیداروں کی فعال ملی بھگت شامل تھی۔
ملزمان نے سرکاری خزانے سے ٹھیکیداروں کے نام پر جعلی اور بوگس رقوم نکلوائیں جنہوں نے گراؤنڈ پر کوئی ترقیاتی یا تعمیراتی کام نہیں کیا تھا۔
جوڈیشل حراست میں موجود اس ملزم کی جانب سے پلی بارگین کی درخواست دائر کیے جانے کے بعد نیب کی خیبر پختونخوا شاخ اس معاملے میں اب تک تقریباً 40 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے۔
37 ارب روپے کے اسکینڈل کی جڑیں
اس ہائی پروفائل بدعنوانی کے اسکینڈل کا پردہ فاش اس وقت ہوا جب 8 اپریل 2025 کو ایک سورس رپورٹ موصول ہوئی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اپر کوہستان میں بینک اکاؤنٹ جی 10113 کے کنٹریکٹرز سیکیورٹی ڈپازٹ ہیڈ سے غیر قانونی طور پر 37 ارب روپے سے زیادہ کی خطیر رقم نکالی گئی اور اس کی خوردبرد کی گئی۔
یہ تمام گھنائونا کھیل ایک منظم سازش کے تحت کھیلا گیا جس میں سرکاری سسٹمز کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا اور اکاؤنٹنگ پالیسیز اینڈ پروسیجرز مینوئل کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی گئیں۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی کرپشن کی ایک اور داستان منظر عام پر، لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایک شخص کی تقرری پر قومی خزانے سے21 کروڑ 8 لاکھ روپے لوٹ لیے
اس نوعیت کے بڑے مالیاتی فراڈز نے سرکاری محکموں میں مالیاتی آڈٹ اور انٹرنل کنٹرول سسٹمز کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
مالیاتی بدعنوانی، نظامی کمزوریاں اور ریکوری کے تقاضے


