پنجاب، اسلام آباد میں بارانِ رحمت، محکمہ موسمیات نے مزید بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئی کردی

پنجاب، اسلام آباد میں بارانِ رحمت، محکمہ موسمیات نے مزید بارش اور ژالہ باری کی پیش گوئی کردی

خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں موسلادھار بارش اور بادلوں کے ڈیرے سے سردی کی لہر پھیل گئی ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے بالائی علاقوں میں مزید بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے۔

ملک میں موسمی تبدیلی کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بارش اور برف باری کے بعد اب پنجاب کے متعدد علاقوں میں بھی بارانِ رحمت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق نارووال، شکرگڑھ، کرتارپور، نورکوٹ اور ان کے گردونواح میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ہوا میں خنکی اور سردی کی شدت میں یکدم اضافہ ہو گیا ہے۔

بارش کے ساتھ ہی ان علاقوں میں گرم کپڑے اور سوئٹر نکل آئے ہیں اور دیہی و شہری علاقوں میں معمولاتِ زندگی پر سردی کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: لاہور کی فضا پھر آلودہ، ملک بھر میں بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں صبح سے ہی سیاہ اور گہرے بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ شہر کے بعض علاقوں میں ہلکی بارش بھی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے موسم انتہائی خوشگوار ہو گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس وقت مغربی ہواؤں کا ایک مضبوط سلسلہ ملک کے بالائی حصوں میں موجود ہے اور متحرک ہے۔ اس سسٹمز کے زیرِ اثر اسلام آباد اور گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے، جبکہ اس دوران بعض مقامات پر ژالہ باری ہونے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔

بالائی علاقوں میں پیشگوئی اور ملک گیر موسمی حالت

محکمہ موسمیات کے مطابق آج بالائی پنجاب کے مختلف اضلاع، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ چند مقامات پر تیز ہوائیں چلنے اور ژالہ باری کا خدشہ ہے۔ تاہم، ملک کے بیشتر جنوبی اور میدانی علاقوں میں موسم بنیادی طور پر خشک اور رات کے وقت سرد رہنے کی توقع ہے۔

بالائی علاقوں میں جاری یہ سلسلہ اگلے چند دنوں تک وقفے وقفے سے برقرار رہ سکتا ہے جس کے بعد پائیدار سردی کا آغاز ہو جائے گا۔

خریف کے اختتام اور اسموگ کے موسم میں بارشوں کی اہمیت

پاکستان میں اکتوبر اور نومبر کا مہینہ موسم کی تبدیلی کا ایک اہم سنگِ میل ہوتا ہے، جب گرمیوں کا اختتام ہوتا ہے اور مغرب سے آنے والی ہوائیں ملک میں داخل ہونا شروع ہوتی ہیں۔

حالیہ سالوں میں پنجاب کے میدانی علاقوں میں اکتوبر اور نومبر کے دوران سموگ اور ہوا کی زہریلی کیفیت ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آتی رہی ہے۔

مزید پڑھیں:پنجاب میں موسم سرما کی پہلی تیز بارش، بالائی علاقوں میں برفباری

ایسے میں خریف کی فصلوں کی کٹائی اور ربیع کی کاشت کے اس درمیانی وقت میں ہونے والی بارش نہ صرف فضائی آلودگی اور سموگ کے اثرات کو زائل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، بلکہ معلق گرد و غبار کو ختم کر کے شہریوں کو سانس کی بیماریوں اور نزلہ زکام سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔

زرعی معیشت اور عوامی صحت پر موسمی تغیرات

اکتوبر کے آخری ایام میں مغربی ہواؤں کے فعال ہونے اور بارشیں برسانے سے زرعی اور صحتی شعبوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

میدانی علاقوں میں بارش گرد و غبار کی تہہ کو دھو کر ایئر کوالٹی انڈیکس میں نمایاں بہتری لاتی ہے، جو شہریوں کے لیے صحت بخش ثابت ہوتی ہے۔

زرعی نقطہ نظر سے، گندم کی بروقت کاشت اور زمین کی تیاری کے لیے یہ نمی انتہائی فائدے مند تصور کی جاتی ہے، تاہم ژالہ باری کی صورت میں کھڑی فصلوں اور باغات کو جزوی نقصان کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ مجموعی طور پر بارشوں کا یہ سلسلہ خشک سردی سے نجات کا باعث بنے گا اور سردیوں کی مکمل آمد کا پیشہ خیمہ ثابت ہوگا۔

Related Articles