وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تنازعات کے باعث ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے تاہم چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معیشت میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں مالی سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، تاہم پاکستان کی معیشت مختلف مشکلات کے باوجود بہتری کی جانب گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی دیگر منڈیوں کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے بانڈز میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی تنازعات ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور زیادہ سے زیادہ افراد اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ حکومت معاشی ترقی میں معاونت کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو پیٹرول کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے، جیسا کہ بعض دوسرے ممالک میں دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہدف پر مبنی سبسڈی فراہم کی گئی کیونکہ بڑی گاڑیوں کے مالکان کو اس قسم کی معاونت کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت موسم سرما کے دوران ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ پاکستان کے لیے گیس اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی مناسب فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ملک نے توانائی کی قلت سے بچاؤ کیا ہے جبکہ خام تیل اور توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی بھی تسلی بخش رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ماضی میں درآمدات پر انحصار کے باعث پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم 4 سے 5 سال کی کوششوں کے بعد ملک کی کریڈٹ ریٹنگ دوبارہ بی کیٹیگری میں آگئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ رواں مالی سال پاکستان کو بیرون ملک مقیم شہریوں سے 44 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جنگ کے باعث ترسیلات زر میں کمی آسکتی ہے، تاہم اس کے برعکس ان میں اضافہ ہوا ہے۔