پاکستان نے سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے افغان طالبان کے خلاف افغان شہریوں کو مسلح کرنے کے تمام الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے لیے سابق امریکی خصوصی نمائندے اور سفیر زلمے خلیل زاد کے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان طالبان اور ان کے حامی دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے سابق افغان شہریوں کو مسلح کر رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اس حوالے سے ایک مفصل ’فیک چیک‘ رپورٹ جاری کرتے ہوئے ان کے ان دعوؤں کو سراسر گمراہ کن اور محض قیاس آرائیوں کا پلندہ قرار دیا۔
*𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠*
◾️ Pakistan categorically rejects the baseless and misleading allegations by Zalmay Khalilzad of arming former Afghans to fight Taliban and their supporters terrorist groups. His sweeping baseless assertions merely recycle speculative narratives as part of his personal agenda to prop terrorism supporting Taliban regime.
◾️ It is particularly misleading to conflate Pakistan’s legitimate counterterrorism operations against terrorist organisations operating from inside Afghan Taliban regime controlled areas threatening its citizens with allegations of recruiting Afghan nationals or sponsoring armed groups inside Afghanistan. Pakistan remains at the forefront of the fight against terrorism and has made enormous sacrifices in protecting regional peace and security.
◾️ Successive UN monitoring reports have documented the continued presence and activities of terrorist organisations, including TTP and Al-Qaeda, inside Afghanistan. Khalilzad’s allegations conveniently divert attention from the Afghan Taliban regime’s responsibility to prevent its territory from being used by Indian sponsored proxies for terrorism against Pakistan.
◾️Mr Khalilzad paddling of such unsubstantiated allegations only expose his skewed agenda based views.𝐓𝐫𝐮𝐭𝐡 𝐏𝐫𝐞𝐯𝐚𝐢𝐥𝐬 𝐨𝐯𝐞𝐫 𝐅𝐚𝐥𝐬𝐞𝐡𝐨𝐨𝐝
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) October 24, 2026
وزارت کے مطابق زلمے خلیل زاد کی یہ سنسنی خیز اور غیر تصدیق شدہ باتیں ان کے ذاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد طالبان حکومت کی پردہ پوشی کرنا ہے جو خود دہشتگرد عناصر کو پناہ دے رہی ہے۔
سیکیورٹی آپریشنز اور قانونی دائرہ کار
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے اپنے واضح بیان میں کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے زیرِ اثر علاقوں سے پاکستان کے شہریوں پر حملہ کرنے والی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف پاکستان کی قانونی اور تزویراتی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کو کسی بھی صورت افغان شہریوں کو بھرتی کرنے یا افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی سرپرستی کرنے کے ساتھ ملانا شدید گمراہ کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:زلمے خلیل زاد کی ٹویٹ بے بنیاد، اوکاڑا، اختر اباد میں قتل کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب
پاکستان ہمیشہ سے عالمی اور علاقائی سطح پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہا ہے اور اس نے خطے کے امن و استحکام کے لیے سب سے زیادہ اور لازوال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کو نظر انداز کر کے ایسے منفی بیانیے کو فروغ دینا ناانصافی اور حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور افغان حکمرانوں کی ذمہ داری
وزارتِ اطلاعات نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ اقوامِ متحدہ کی یکے بعد دیگرے آنے والی مانیٹرنگ رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان کے اندر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سمیت کئی بین الاقوامی و علاقائی دہشت گرد تنظیمیں محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں اور اپنی متحرک کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
زلمے خلیل زاد کے یہ تمام تر الزامات دراصل افغان طالبان حکومت کی اس بنیادی اور بین الاقوامی ذمہ داری سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو بھارت کے زیرِ سرپرستی چلنے والے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
بیان کے اختتام میں کہا گیا کہ زلمے خلیل زاد کی جانب سے اس طرح کے غیر تصدیق شدہ اور من گھڑت الزامات کو بار بار دہرانا محض ان کے جانبدارانہ اور شخصی نقطہ نظر کو بے نقاب کرتا ہے۔
افغان تناظر اور سفارتی تعلقات میں کشیدگی
اگست 2021 میں طالبان کی کابل میں حکومت قائم ہونے کے بعد سے پاکستان نے بارہا عبوری افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کرے، جن میں یہ صاف درج تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
پاکستان کی سرحدوں کے قریب تیزی سے بڑھتے ہوئے ٹی ٹی پی کے حملوں اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مبینہ اثر و رسوخ کے باعث اسلام آباد اور کابل کے دوطرفہ تعلقات میں طویل عرصے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔
زلمے خلیل زاد جنہوں نے دوحہ مذاکرات اور امریکی انخلا کی کارروائیوں میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، پر اکثر پاکستان کی جانب سے جانبداری اور زمینی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔
جیو پولیٹیکل منظر نامہ اور علاقائی امن کا چیلنج
موجودہ جیو پولیٹیکل حالات کا احاطہ کیا جائے تو زلمے خلیل زاد کا بیانیہ خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے میں ابھرنے والے چیلنجز کا ملبہ دوسرے ممالک پر ڈالنے کے بجائے عالمی برادری اور افغان حکمرانوں کو زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:امریکا کی مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ نے بھارت میں مذہبی تعصب کا پول کھول دیا


