حامد میر بیرونی آقاوں کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں، فیاض الحسن چوہان کا دعویٰ

حامد میر بیرونی آقاوں کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں، فیاض الحسن چوہان کا دعویٰ

سینئر سیاستدان اور سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے سینئر صحافی حامد میر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ  حامد میر کی گفتگو سن کر انہیں حیرانی اور شرمساری ہوئی، کیونکہ ان  کی باتوں میں باہمی ربط نہیں تھا۔

 انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کے ہر ملک میں قومی سلامتی، ملکی سالمیت اور خودمختاری کے نام پر پابندیاں اور ضوابط موجود ہیں، تاہم پاکستان میں صحافیوں، سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کو جس انداز میں اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے، وہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ حامد میر کی گفتگو سن کر انہیں حیرت ہوئی کہ ملک کا ایک سینئر صحافی اس انداز میں بات کر رہا ہے۔ ان کے بقول گفتگو کے مختلف جملوں میں کوئی باہمی تعلق اور ربط دکھائی نہیں دیتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حامد میر سے پوچھا جانا چاہیے کہ دنیا کا کون سا ملک ہے جہاں قومی سلامتی، ملکی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے پابندیاں اور قدغنیں موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں ہولوکاسٹ اور امریکا میں نائن الیون سے متعلق ایسے بیانات دینے کی کوشش کی جائے جو ان ممالک کی پالیسیوں کے خلاف ہوں تو صورتحال مختلف ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: کے پی میں پی ٹی آئی کی لوٹ مار کا بازار ہمیشہ کے لیے بند، آفریدی کا جانا مبارکباد کا متقاضی ہے: فیاض الحسن چوہان کا تباہ کن وار

سابق صوبائی وزیر نے حامد میر پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسی عالمی قوتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں جو پاکستان کو کمزور اور غیر مستحکم رکھنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر کی تحریروں اور گفتگو میں فوج، ملکی خودمختاری اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید نظر آتی ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے حامد میر کی جانب سے بنگلہ دیش کی آزادی کے حوالے سے ایوارڈ وصول کرنے کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حامد میر نے سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے ایوارڈ وصول کرکے اپنے والد کو بھی بدنام کیا، تاہم بعد میں تنقید کے باعث انہوں نے یہ ایوارڈ واپس کردیا۔

انہوں نے حامد میر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ملکی اسٹیبلشمنٹ کے قریب رہے، لیکن اب ان کے بقول بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہوکر پاکستان، فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان نے حامد میر کی حالیہ گفتگو پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہنا، سمجھانا یا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی گفتگو سے حامد میر نے اپنی اہمیت اور وقار میں اضافہ کرنے کے بجائے کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جونیئر صحافیوں کے سامنے اس انداز میں گفتگو کرکے کوئی شخص اپنی حیثیت بلند نہیں کرتا بلکہ اپنی گفتگو کے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے آزادیٔ صحافت کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں اظہارِ رائے کی غیر محدود آزادی موجود نہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا، سویڈن، برطانیہ اور جرمنی سمیت ہر ملک کے اپنے اصول، ضوابط اور قومی سلامتی سے متعلق حدود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ریاستی پالیسیوں، فوج اور قومی سلامتی کے خلاف بات کرنے کے معاملے میں وہاں کے قوانین اور ضوابط کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاستدان، صحافی، تجزیہ کار اور مذہبی شخصیات بعض اوقات کسی حد و قید کے بغیر اپنی بات کرتے ہیں۔

فیاض الحسن چوہان نے اس مثال کے ذریعے کہا کہ پاکستان میں بعض سیاستدان، صحافی، تجزیہ کار اور مذہبی شخصیات اپنی گفتگو میں کسی حد کا خیال نہیں رکھتیں اور جو منہ میں آتا ہے، کہہ دیتی ہیں۔

Related Articles