شمالی وزیرستان سردی خیل میں شہریوں کے اغوا کا بھارتی پراکسی ہینڈلرز کا جھوٹا پروپیگنڈا بھی ناکام گیا، آزاد فیکٹ چیک نے تمام جھوٹے دعوے خاک میں ملا دیے

شمالی وزیرستان سردی خیل میں شہریوں کے اغوا کا بھارتی پراکسی ہینڈلرز کا جھوٹا پروپیگنڈا بھی ناکام گیا، آزاد فیکٹ چیک نے تمام جھوٹے دعوے خاک میں ملا دیے

شمالی وزیرستان کے علاقے سردی خیل سے 3 افراد کے مبینہ اغوا سے متعلق بھارتی پراکسی ہینڈل کا پروپیگنڈا فیک چیک رپورٹ میں صریحاً جھوٹ اور بے بنیاد قرار دے دیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بھارتی پراکسی ہینڈل کی جانب سے انتہائی مکروہ انداز میں انسانی حقوق کی پامالی کا جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔ 

اس پروپیگنڈا کے تحت یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی کے نواحی گاؤں سردی خیل سے 3 مقامی افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:“فرانس جانے نہیں دیتے، پاکستان کیا جانے دیں گے!” بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نےمودی سرکار کا پول کھول دیا

معروف فیک چیک ادارے ’آزاد فیک چیک‘ کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق یہ دعویٰ سراسر جھوٹ، فریب اور بدترین پروپیگنڈا پر مبنی ہے جس کا حقیقت سے کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔

آئینی حدود اور دہشتگردی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں

حقیقت یہ ہے کہ ریاست کے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک بالخصوص شمالی وزیرستان میں مکمل طور پر آئینی اور قانونی دائرہ کار کے اندر رہ کر اپنی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سردی خیل کے علاقے میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی حراست یا شہریوں کے مبینہ اغوا کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

خطے میں تمام انسدادِ دہشتگردی کی کوششیں اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز انتہائی نپا تلا اور درست ہدف کے تحت صرف مسلح دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کیے جاتے ہیں تاکہ مقامی سول آبادی کی مکمل حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور عام شہریوں کو کسی قسم کی تکلیف کا سامنا نہ ہو۔

پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور پراکسی نیٹ ورکس کا کردار

تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جب بھی دہشتگردی کے خلاف کامیاب عسکری آپریشنز کے ذریعے کسی خطے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جاتا ہے، تو دشمن عناصر سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بھارتی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی نیٹ ورکس اور مہم جو ڈیجیٹل پروپیگنڈا باز مسلسل ایسے مذموم ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

وہ جان بوجھ کر جبری گمشدگیوں کے جعلی واقعات گھڑتے ہیں اور ریاستی ظلم و ستم کی نقلی کہانیاں تراشتے ہیں تاکہ کامیابی سے امن بحال کرنے والے علاقوں میں ایک بار پھر بے چینی اور خوف کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔

نفسیاتی جنگ اور عالمی توجہ ہٹانے کی ناکام سازش

شہریوں کے فرضی اغوا کی کہانیاں تراشنا اور مقامی شناخت کو بطور ہتھیار استعمال کرنا دراصل ایک سوچی سمجھی نفسیاتی جنگ کی خطرناک حکمتِ عملی ہے۔ 

اس کا مقصد مقامی سطح پر نسلی منافرت اور دوری پیدا کرنا، پیشہ ورانہ ریاستی سیکیورٹی اداروں کی لازوال قربانیوں اور ساکھ کو نقصان پہنچانا اور دنیا بھر کے عالمی مبصرین کی توجہ کو بھارت کی اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہٹانا ہے۔

مزید پڑھیں:افغان طالبان نے اپنی سرزمین کرائے پر دیدی، دہشتگردوں کے لیے بھارتی فنڈنگ کی ویڈیو منظر عام پر آگئی

جھوٹ پر مبنی اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنے مذموم مقاصد میں پوری طرح ناکام رہیں گے، کیونکہ ریاستی ادارے ہمیشہ قانون، شفافیت اور آئین کی پاسداری کو مقدم رکھتے ہیں۔

Related Articles