پاکستان میں انتخابی شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک انتہائی اہم قدم اٹھایا ہے، الیکشن کمیشن نے ملکی انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت (AI) کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے اور انتخاب کو شفاف بنانے کی غرض سے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور انتخابی مبصرین کے ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) میں ترامیم کی تجاویز پیش کر دی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے ان مجوزہ ترامیم پر عوام اور تمام سیاسی جماعتوں سے 20 نومبر تک تجاویز بھی طلب کر لی ہیں۔
سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے سخت قواعد و ضوابط
مجوزہ ترمیم کے مطابق سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی مواد کا استعمال بنا بتائے ممکن نہیں ہوگا ، واضح لیبلنگ لازمی ، سیاسی جماعتیں، امیدوار یا ان کے حامی AI کی مدد سے بنا یا تبدیل کیا گیا کوئی بھی انتخابی مواد واضح لیبل لگائے بغیر شائع نہیں کر سکیں گے۔
ترمیم کے مطابق ڈیپ فیک، مصنوعی آواز اور AI سے تیار کردہ ویڈیوز پر اس کے مصنوعی ہونے کا واضح ذکر کرنا قانونی طور پر لازم ہوگا۔ ووٹرز کو گمراہ کرنے یا دھوکا دینے والی ویڈیو، آڈیو یا تصویر بنانا اور پھیلانا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق کسی بھی شخص کی شکل، آواز یا بیان کو جعلی طور پر بنانے کی سخت ممانعت ہوگی۔ خصوصاً جج، الیکشن اہلکاروں اور پاک افواج کے خلاف جعلی ڈیپ فیک مواد بنانے پر مکمل پابندی ہوگی۔
ترمیم کے مطابق اے آئی بوٹس اور آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے جعلی سوشل میڈیا ٹرینڈز اور لائکس بنانے پر پابندی ہوگی ، علاوہ ازیں، روبو کالز (Robo Calls) اور وائس کلون پیغامات کی شروعات میں ہی یہ بتانا لازمی ہوگا کہ یہ مواد AI جنریٹڈ ہے ، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے استعمال کردہ تمام اے آئی مواد کا پورا ریکارڈ رکھنا ہوگا اور الیکشن کمیشن کے مانگنے پر فراہم کرنا ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے میڈیا کے اے آئی استعمال سے متعلق بھی مجوزہ ترامیم جاری کر دیں۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق تمام پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اے آئی مواد پر واضح لیبل لگائیں گے، میڈیا کو امیدوار یا انتخابی معاملے پر اے آئی تصویر، ویڈیو، آڈیو نشر کرتے وقت اے آئی کا بتانا لازم ہوگا، جعلی، توہین آمیز اور ہتک آمیز ڈیپ فیک مواد بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔
مجوزہ ترمیم میں کہا گیا کہ میڈیا ہاؤسز اے آئی کا استعمال صرف کنٹینٹ جنریشن، ترجمہ اور تجزیہ کیلئے کر سکیں گے، پیمرا، ایس ایم پی آر اے اور این سی سی آئی اے اے آئی مواد کی مانیٹرنگ کریں گے، بغیر لیبل والے اے آئی مواد پر کارروائی اور رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوائی جائے گی۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن کی ہدایت پر میڈیا گمراہ کن اے آئی مواد فوری ہٹانے یا درست لیبل لگانے کا پابند ہوگا۔
انتخابی مبصرین کے اے آئی استعمال سے متعلق مجوزہ ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا گیا ہے۔
مجوزہ ترمیم کے مطابق مبصرین اے آئی سے بنے ڈیپ فیک اور مصنوعی مواد پر نظر رکھیں گے، مشکوک اے آئی مواد ملنے پر فوری الیکشن کمیشن کو اطلاع دیں، آگے شیئر نہ کریں، مبصرین اے آئی ٹولز سے اپنی آبزرویشن، تصاویر، ویڈیوز میں رد و بدل نہیں کریں گے۔
الیکشن کمیشن نے 2023 میں تیارہ کردہ ضابطہ اخلاق میں ترامیم تجویز کی ہیں، اے آئی کے استعمال سے متعلق مجوزہ ترامیم پر 20 نومبر تک تجاویز مانگی گئی ہیں۔
2023 کے ضابطہ اخلاق میں تاریخی ترمیم
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ تمام ترامیم سنہ 2023 میں تیار کردہ بنیادی ضابطہ اخلاق میں تجاویز کی صورت میں شامل کی ہیں ، ان مجوزہ ترامیم کا مقصد انتخابی عمل میں جدید ٹیکنالوجی کا مثبت اور شفاف استعمال یقینی بنانا ہے تاکہ کسی قسم کے جعلی ٹرینڈز، جعلی ویڈیوز یا آڈیوز کے ذریعے عوام کے رائے دہی کے حق کو متاثر نہ کیا جا سکے ، عوام اور متعلقہ فریقین 20 نومبر تک اس پر اپنی آراء جمع کرا سکتے ہیں۔