جرمنی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بڑی فضائی فوجی مشقوں میں برطانیہ اور فرانس کے 600 سے زائد پیراٹروپرز نے حصہ لیا۔ ان فوجیوں نے پیراشوٹ کے ذریعے فضا سے زمین پر اترنے اور فرضی دشمن کے زیر قبضہ علاقے کو واپس لینے کی مشق کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان مشقوں کو یورپ میں روس کی ممکنہ جارحیت کے پیش نظر اتحادی افواج کی دفاعی تیاریوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رائنو اسٹورم کے نام سے فوجی مشقیں
رائنو اسٹورم کے نام سے ہونے والی ان جنگی مشقوں میں تقریباً 2 ہزار 500 برطانوی اور فرانسیسی فوجیوں نے حصہ لیا۔ سات ہفتوں پر مشتمل اس فوجی سرگرمی کا مقصد ممکنہ جنگی صورت حال میں افواج کی تیاری، مشترکہ کارروائیوں اور دفاعی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
مشق کے دوران پیراٹروپرز نے تقریباً 800 فٹ کی بلندی سے چھلانگیں لگائیں اور ایسے فرضی دشمن کا سامنا کرنے کی مشق کی جو ڈرونز، مواصلاتی نظام کو جام کرنے والے آلات اور جدید سینسرز استعمال کر رہا تھا۔
برطانوی وزارت دفاع نے اس کارروائی کو کئی دہائیوں میں برطانیہ کی بڑی فضائی فوجی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا۔ 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر ایڈ کارٹ رائٹ نے مشق کے منظرنامے کو حقیقت پسندانہ اور چیلنجنگ قرار دیا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے روس کا نام لینے سے گریز کیا۔
ان مشقوں میں بڑے پیمانے پر پیراشوٹ کے ذریعے فوجیوں کی تعیناتی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس دشمن کے خلاف کارروائی کی تیاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔ یہ سرگرمیاں یورپ میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور اتحادی ممالک کی مشترکہ دفاعی تیاریوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔