خیبر پختونخوا پولیس کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مزید مؤثر بنانے اور اہلکاروں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے 10 جدید ایمبولینسز اور 8 آرمرڈ پرسنل کیریئرز (اے پی سیز) پولیس کے مختلف ریجنز اور اضلاع کے افسران کے حوالے کردیے گئے۔
سینٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقدہ تقریب میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے ایمبولینسز اور اے پی سیز کی چابیاں ضلعی پولیس افسران کے حوالے کیں۔ تقریب میں ایڈیشنل آئی جی پیز، ڈی آئی جیز سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران بھی موجود تھے۔
خیبر پختونخوا پولیس گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن فورس کے طور پر اپنا کردار ادا کررہی ہے، جس میں آئی جی سے لے کر سپاہی رینک تک کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ اس فورس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئی جی پی ذوالفقار حمید کی خصوصی کاوشوں سے جدید سازوسامان فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، آپریشنز کے دوران یا دہشت گردوں کے حملوں میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو بروقت طبی امداد فراہم کرکے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے تمام ضروری طبی سہولیات سے آراستہ 10 تیز رفتار ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں، جبکہ اہلکاروں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے 6 ضربِ حیدر اور 2 ڈریگون کلاس اے پی سیز بھی دی گئی ہیں۔
جدید ایمبولینسز اور اے پی سیز پشاور، چارسدہ، دیر لوئر، دیر اپر، کوہاٹ، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، ایبٹ آباد اور شانگلہ کے پولیس افسران کے حوالے کی گئیں۔
اس موقع پر آئی جی پی ذوالفقار حمید نے ایمبولینسز اور اے پی سیز کا معائنہ کیا اور ان کے مختلف حصوں اور کارکردگی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ فورس کے جوانوں کو ہنگامی حالات اور آپریشنز کے دوران محفوظ نقل و حرکت کے لیے جدید اے پی سیز فراہم کی جارہی ہیں، جو ان کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
آئی جی پی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حملوں اور آپریشنز کے دوران زخمی ہونے والے اہلکاروں کو ہسپتال پہنچنے تک قیمتی وقت فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری طبی سہولیات سے لیس تیز رفتار ایمبولینسز حاصل کی گئی ہیں، جو بہادر اہلکاروں کی قیمتی زندگیاں بچانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
ذوالفقار حمید نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں پولیس فورس کو ہر قسم کی سہولیات سے لیس کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، جبکہ اس سلسلے میں خصوصی سمریز صوبائی حکومت کو ارسال کی گئی ہیں۔