شہداء اور سیکیورٹی اداروں  کے خلاف بیان فضل الرحمان کومہنگا پڑ سکتا ہے ،مزمل سہروردی

شہداء اور سیکیورٹی اداروں  کے خلاف بیان فضل الرحمان کومہنگا پڑ سکتا ہے ،مزمل سہروردی

سینئر سیاسی تجزیہ کار مزمل سہروردی نے آزاد ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے  کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے سیکیورٹی اداروں اور جوانوں کے خلاف جو بیان دیا تھا، وہ انہیں طویل عرصے تک سیاسی طور پر نقصان  پہنچاتا رہے گا۔

 انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو بہترین مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا کو چاہیے کہ وہ اپنے اس بیان سے  رجوع  کریں، اس کی وضاحت جاری کریں اور اسے باقاعدہ واپس لیں  جب تک وہ اس سے رجوع نہیں کرتے، یہ بیان ان کے سیاسی کیریئر پر بوجھ رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے سنتے آ رہے ہیں کہ نیب مولانا فضل الرحمان کو نوٹسز جاری کر رہا ہے اور اس حوالے سے کئی کہانیاں گردش میں ہیں تاہم، جب تک کوئی چیز عملی طور پر سامنے نہ آ جائے حتمی بات نہیں کی جا سکتی، لیکن جب عمل ہوگا تو سب کے سامنے آ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :خیبر پختونخوا حکومت پولیس کو کیوں اپنے ماتحت بنانا چاہتی ہے، مزمل سہروردی نے بھانڈا پھوڑ دیا

اسٹریٹ پاورکا حل

 مولانا فضل الرحمان کی اسٹریٹ پاور (مدرسے کے بچوں کو سڑکوں پر لانے کی طاقت) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہاجیسے تحریک انصاف کو اپنی اسٹریٹ پاور کا زعم تھا، ویسے ہی مذہبی جماعتوں کو بھی رہا ہے، لیکن ریاست کے آگے اسٹریٹ پاور کچھ نہیں ہوتی۔
ریاست نے اب اس کا بنیادی حل نکالنا شروع کر دیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مدرسے کے بچوں کو  کروم بکس   دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو کہ ایک بہترین اقدام ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ان بچوں کو جدید دنیا کے ساتھ ملانے کی جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ کوئی بھی مذہبی رہنما مدرسے کے بچوں کے سر پر اپنی  سیاست نہ چمکا سکے ،مدرسے کے بچوں کو جدید و دنیاوی تعلیم اور سوشل فیبرک کے قریب لانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے تاکہ وہ خود کو عام دنیا سے الگ تھلگ نہ سمجھیں۔

ملکی سیاسی صورتحال، خیبر پختونخوا (KP) کی انتظامی و معاشی حالت، تحریک انصاف (PTI) کے اندرونی بحران اور بین الاقوامی سیاست پر مزمل سہروردی نے کہاہے کہ تحریک انصاف نے کے پی میں خود گورنر راج اور ایمرجنسی کی راہ ہموار کی ہے اور اسے دل سے قبول کر لیا ہے۔

انہوں نے اسے سیاسی قتل نہیں بلکہ  سیاسی خودکشی قرار دیا پرویز خٹک کی سیاست میں واپسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام (Political Capital) بحال کرنے کے لیے انتہائی سخت محنت کرنا ہوگی، کیونکہ صوبے میں ان کا مقابلہ علی امین گنڈا پور سے ہوگا۔

کے پی کے میں منشیات کے بڑے بازار

سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار نے انکشاف کیا کہ گزشتہ 13 سالوں سے خیبر پختونخوا میں دنیا کے بڑے منشیات کے بازار لگتے رہے ہیں، انہوں نےکہا کہ پی ٹی آئی اور کالعدم ٹی ٹی پی یا گل بہادر گروپ کے درمیان مفاہمت  کا رشتہ تھا  صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان منشیات کی کاشت، پروڈکشن اور اسمگلنگ کو تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔.

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی نے مذاکرات کا چانس مس کردیا، اب مزید مذاکرات کا امکان نہیں، مزمل سہروردی 

  اس منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والا پیسہ افغانستان کے طالبان اور جنگجو سرداروں (Warlords) تک جاتا تھا، مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ اگر کے پی کو منشیات کے اس کاروبار سے کلین کر لیا جائے تو پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ 50 فیصد تک ممکن ہو جائے گا، پی ٹی آئی  پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 سالوں میں کے پی کے اندر جتنی کرپشن ہوئی اتنی  پورے پاکستان میں نہیں ہوئی۔

سائیکل پر آنے والوں کی بیرون ملک جائیدادیں 

 جو لوگ سیاست میں سائیکل پر آئے تھے وہ آج مہنگی پراڈو گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور بیرون ملک جائیدادیں بنا چکے ہیں، گندم کے اسکینڈلز سمیت کرپشن کے انبار لگ گئے ہیں  انہوں نے ڈاکٹر امجد کے 13 سالوں میں 51 غیر ملکی دوروں پر بھی سوال اٹھایا۔

پی ٹی آئی کی صفوں میں اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی شدید ٹوٹ  ٹھوپ کا شکار ہے، شہباز گل اور دیگر رہنماؤں کے تنازعات کے علاوہ انہوں نے سلمان اکرم راجہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس نازک وقت میں پارٹی کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کا باعث بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سہیل آفریدی عمران خان سے ملنا نہیں چاہتے، محسن نقوی سے دوستی ہے، مزمل سہروردی

روپوش رہنمائوں کے ٹویٹر اکائونٹس کون چلا رہا؟

  انہوں نے انکشاف کیا کہ روپوش رہنماؤں (جیسے مراد سعید، مینا خان اور شفیع جان) کے ٹویٹر اکاؤنٹس خود وہ نہیں بلکہ شکاگو میں جبران الیاس چلا رہے ہیں جبکہ یہ رہنما خود محبت کے پہاڑوں میں روپوش ہیں۔

سینئر صحافی حامد میر کی جانب سے سوشل میڈیا پر پیسے لے کر ٹویٹس کرنے والے اینکرز و صحافیوں کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ ذمہ دار صحافیوں کو ہوائی باتیں کرنے کے بجائے ثبوتوں کے ساتھ نام لینے چاہئیں۔

 انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی صحافی سمجھتا ہے کہ اس کے ادارے میں اصولوں پر سمجھوتہ ہو رہا ہے تو اسے تنخواہ کی خاطر اصولوں کا سودا کرنے کے بجائے کام چھوڑ دینا چاہیے،عالمی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے 27 اکتوبر (اسرائیل کے انتخابات اور نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل) اور 3 نومبر (امریکی صدارتی انتخابات اور ڈٹرمپ  کا کردار) کی تاریخوں کو دنیا اور جاری جنگوں کے لیے انتہائی فیصلہ کن قرار دیا، جن کے دنیا بھر پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

editor

Related Articles