اسلام آباد (کالم، ابوبکر قسام )
کسی سیاسی بحث میں پڑنے سے پہلے صرف اس ہوشربا ریاضی پر غور کریں جسے پاکستان کی خاموش اکثریت سے ہمیشہ چھپایا جاتا ہے۔ پاکستان بھر میں اس وقت کل 40 ہزار دینی مدارس موجود ہیں، جن میں سے نصف یعنی 20 ہزار مدارس نے ریاستی قوانین کا احترام کرتے ہوئے باقاعدہ رجسٹریشن کروائی، بینک اکاؤنٹس کھولے اور اپنے مالیاتی آڈٹ کا ریکارڈ جمع کروایا۔ لیکن باقی 20 ہزار مدارس آج بھی مکمل طور پر غیر رجسٹرڈ ہیں اور ایک ایسے مالیاتی بلیک ہول میں چل رہے ہیں جس کا براہِ راست کنٹرول مولانا فضل الرحمان کے نیٹ ورک کے ہاتھ میں ہے۔
ہر سال اس نظام سے 18 لاکھ طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جن میں سے صرف خیبر پختونخوا میں سالانہ 9 لاکھ نوجوان نکلتے ہیں۔ اب ذرا کیلکولیٹر اٹھائیں: ایک طالب علم کے رہائش، خوراک اور انتظام کا کم سے کم ماہانہ خرچ بھی اگر محض 4 ہزار روپے لگایا جائے، تو صرف خیبر پختونخوا اور سرحدی پٹی کے اس نیٹ ورک کو چلانے کے لیے سالانہ 45 سے 50 ارب روپے نقد (کیش) درکار ہوتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ 50 ارب روپے سالانہ کا خطیر سرمایہ کسی پاکستانی بینک اکاؤنٹ، اسٹیٹ بینک یا آڈٹ سسٹم سے گزرے بغیر خالصتاً پرچی، ہنڈی اور بوریوں میں بند کیش کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب 2019 سے لے کر آج تک گزرنے والے 7 سالوں اور 5 سرکاری ڈیڈ لائنز کے دوران ملک کے 20 ہزار مدارس کو بینک اکاؤنٹ کھولنے اور آڈٹ کروانے میں کوئی شرعی یا قانونی مسئلہ پیش نہیں آیا، تو مولانا فضل الرحمان نے اپنے زیرِ اثر 20 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس کے بینک آڈٹ کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ کیوں بنا رکھا ہے؟ اس راز سے پردہ اٹھانے کے لیے نقشے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان 20 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس میں سے تقریباً 68 فیصد (یعنی 13 ہزار 600 سے زائد مدارس) خاص طور پر خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع، ضم شدہ قبائلی علاقوں اور پاک افغان سرحدی گزرگاہوں کے عین اوپر قائم ہیں۔ یہ وہی جغرافیائی پٹی ہے جہاں سے بارڈر اسمگلنگ، نان کسٹم پیڈ کارٹلز اور افغان ٹرانزٹ کا کالا دھن گردش کرتا ہے۔
اس “بریک واردات” کے اصل محرکات تب کھل کر سامنے آتے ہیں جب آپ مولانا فضل الرحمان کی اپنی پرانی ویڈیوز کو ان کے آج کے بیانات کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ ایک طرف ان کے دورہِ کابل کی وہ ریکارڈ شدہ ویڈیوز ہیں جہاں وہ افغان طالبان (TTA) کی قیادت سے بغل گیر ہو کر ان کی کھلی وکالت کرتے ہیں اور پاکستان کے اندر فتنہ الخوارج (TTP) کے خلاف ہر فوجی آپریشن کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف، ٹھیک اس ہفتے جب ریاستِ پاکستان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کر کے انتظامی رٹ بحال کی اور فتنہ الخوارج و افغان طالبان کی سرحدی پناہ گاہوں اور اسمگلنگ کاریڈورز کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کیا، مولانا فضل الرحمان کو اچانک “آئین اور جمہوریت” کا دورہ پڑ گیا اور انہوں نے ریاست کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کر دیا۔
یہ وقت کا اتفاق نہیں بلکہ کابل کے سرپرستوں کی “نمک حلالی” ہے۔ مستند انٹیلی جنس اور مالیاتی کڑیاں بتاتی ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پھیلے ان غیر رجسٹرڈ مدارس کے سالانہ 50 ارب روپے کے اخراجات آسمان سے نہیں اترتے، بلکہ اس کا بڑا حصہ کابل کے حکمرانوں (TTA) کی خفیہ فنڈنگ، ہنڈی حوالہ نیٹ ورک اور سرحدی اسمگلنگ مافیا کے کالے دھن سے پورا کیا جاتا ہے۔ مولانا کو خطرہ اسلام یا مدارس سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہے کہ اگر ان 20 ہزار مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھل گئے اور ایک روپے کا بھی سرکاری آڈٹ ہو گیا، تو کابل سے ڈیرہ اسماعیل خان تک بپھری ہوئی اس خفیہ فنڈنگ کی پوری منی ٹریل قوم کے سامنے بے نقاب ہو جائے گی۔
جب بھی پاک فوج دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرتی ہے اور ان کی مالیاتی شہ رگ کاٹنے نکلتی ہے، اسلام آباد میں بیٹھا “کابل کا وکیل” فوراً سیاسی شورش برپا کر کے ریاست کو بلیک میل کرنے پہنچ جاتا ہے تاکہ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن کو روکا جا سکے۔ گزشتہ 3 دہائیوں میں درجنوں وفاقی وزارتیں، کشمیر کمیٹی کی مراعات، اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں رہائش گاہیں اور بلٹ پروف وی وی آئی پی گاڑیاں اپنے خاندان کے نام رکھنے والے مولانا، خیبر پختونخوا کے غریب گھرانوں کے 9 لاکھ پشتون طلبہ کو صرف اپنے غیر رجسٹرڈ ڈالر اور افغانی فنڈنگ نیٹ ورک کو بچانے کے لیے بطور “انسانی ڈھال” اور سیاسی ایندھن استعمال کر رہے ہیں۔
آج پاکستان کا ہر باشعور شہری مولانا فضل الرحمان سے صرف دو سیدھے سوال پوچھ رہا ہے جن کا جواب ان کے پاس نہیں ہے: اگر ملک کے 20 ہزار رجسٹرڈ مدارس بینک اکاؤنٹ کھول کر اپنا حساب دے سکتے ہیں، تو آپ کے 20 ہزار غیر رجسٹرڈ مدارس میں چلنے والا وہ سالانہ 50 ارب روپے کا کالا دھن کس دشمن نیٹ ورک سے آ رہا ہے جسے آپ اسٹیٹ بینک کے آڈٹ سے چھپا رہے ہیں؟ اور آپ کی سیاست کا انجن ہمیشہ اسی ہفتے کیوں اسٹارٹ ہوتا ہے جب پاک فوج فتنہ الخوارج اور ان کے کابل میں بیٹھے آقاؤں کی کمر توڑنے نکلتی ہے؟