پشاور میں رکشوں پر پابندی اور 77 ہزار ڈرائیوروں کو بے روزگار کرنے کی خبر جھوٹی نکلی

پشاور میں رکشوں پر پابندی اور 77 ہزار ڈرائیوروں کو بے روزگار کرنے کی خبر جھوٹی نکلی

سوشل میڈیا پر پشاور میں رکشوں پر پابندی اور ہزاروں ڈرائیوروں کو بے روزگار کرنے سے متعلق گردش کرنے والی خبر جھوٹی نکلی۔ 

آزاد فیکٹ چیک کے مطابق  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’انصاف لا پی کے‘ کے نام سے سرگرم اکاؤنٹ  پر دعویٰ کیا گیا کہ گورنر راج کے تحت پشاور میں رکشوں کی تعداد 100,000 سے کم کرکے صرف 23,000 تک محدود کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار رکشہ ڈرائیوروں کا روزگار متاثر ہوگا۔

آزاد فیکٹ چیک نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی گورنر راج نافذ نہیں ہے اور نہ ہی گورنر یا ریاستی حکام کی جانب سے رکشہ ڈرائیوروں کے روزگار پر پابندی عائد کرنے یا رکشوں کی تعداد محدود کرنے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے۔

فیکٹ چیک کے مطابق ریاستی سطح پر انتظامی پابندی کے ذریعے بڑے پیمانے پر بے روزگاری پیدا کرنے سے متعلق دعویٰ من گھڑت اور زمینی حقائق سے عاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان سردی خیل میں شہریوں کے اغوا کا بھارتی پراکسی ہینڈلرز کا جھوٹا پروپیگنڈا بھی ناکام گیا، آزاد فیکٹ چیک نے تمام جھوٹے دعوے خاک میں ملا دیے

آزاد فیکٹ چیک کے مطابق  سیاسی مقاصد کے لیے سرگرم ڈیجیٹل اکاؤنٹس مبینہ طور پر فرضی معاشی بحرانوں اور غیر موجود آئینی ہنگامی صورت حال کی کہانیاں پھیلا کر ریاستی جبر کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محنت کش طبقے سے وابستہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کے معاشی خدشات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا مصنوعی طور پر حکومت مخالف جذبات پیدا کرنے اور عوامی بے چینی بڑھانے کی کوشش ہے۔

فیکٹ چیک کے مطابق معاشی پابندیوں اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری سے متعلق جعلی اطلاعات پھیلانا عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے، ملکی سیاسی رائے عامہ پر اثرانداز ہونے، ریاست کے ظالمانہ اقدامات کا غلط تاثر دینے اور ڈیجیٹل میڈیا پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

Related Articles