اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خطرات بڑھنے پر بنیادی شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کردیا۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد فیصلے کا اعلان کیا۔ یہ جون کے بعد مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں پہلا اضافہ ہے۔
گورنر جمیل احمد نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہی ہیں۔ ان کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے موجودہ معاشی حالات کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کے 10 میں سے 9 ارکان نے شرح سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا۔ گورنر کے مطابق ستمبر کے اجلاس کے مقابلے میں معاشی حالات خراب ہوئے ہیں، جبکہ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے تخمینوں میں بھی کچھ اضافہ ہوا ہے۔ گندم کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ سکیں، تاہم ان میں بہتری آئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران برآمدات 32.5 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 45 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔
ستمبر میں مہنگائی بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگئی
مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق ستمبر میں سالانہ بنیادوں پر عمومی مہنگائی کی شرح بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگئی، جو مانیٹری پالیسی کمیٹی کی توقعات سے زیادہ تھی۔ توانائی، گندم اور متعلقہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
بیان کے مطابق بنیادی مہنگائی کی شرح بھی تقریباً 8.4 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رہی۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے مہنگائی سے متعلق توقعات مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات بالآخر بنیادی مہنگائی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی کے منظرنامے کو درپیش اہم خطرات میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کے نرخوں میں ممکنہ ردوبدل، گندم کی قیمتوں میں مزید اضافے اور ناموافق موسمی حالات کو شامل کیا۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر ریکارڈ
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ چاول، اعلیٰ قدر کی ٹیکسٹائل مصنوعات اور خدمات کے شعبے کی بدولت برآمدات میں بحالی آرہی ہے، جبکہ ترسیلات زر مستحکم ہیں اور ان کے سابقہ تخمینوں سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب غیر توانائی درآمدات، معاشی سرگرمیوں میں بحالی اور قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0 سے 1 فیصد کی پہلے سے مقررہ حدود میں رہے گا۔ بیان کے مطابق مالیاتی ذرائع سے زیادہ رقوم کی آمد سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر پر مستحکم
اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر پر مستحکم ہیں، جو تقریباً 3 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ مرکزی بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کی مسلسل خریداری سے ذخائر کو سہارا ملا ہے۔
بیان میں پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کا بھی ذکر کیا گیا۔
مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیوں میں سالانہ بنیادوں پر 7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ وصولیاں مقررہ ہدف سے 33 ارب روپے زیادہ رہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق سہ ماہی کے دوران مجموعی مالیاتی اور بنیادی مالیاتی توازن سرپلس میں رہنے کا اندازہ ہے۔
تاہم مانیٹری پالیسی کمیٹی نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مالیاتی انتظام کو مزید مشکل بنادیا ہے۔ کمیٹی نے مالیاتی نظم و ضبط مضبوط بنانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور ساختی اصلاحات تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔