سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ڈاکٹر فرحان ورک نے اپنی گفتگو سے بھارتی پروپیگنڈا کا سکرپٹ ملیا میٹ کر دیا: سچائی کے سامنے آتے ہی ’را‘ کی کٹھ پتلیوں کی چیخیں نکل گئیں!

سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ڈاکٹر فرحان ورک نے اپنی گفتگو سے بھارتی پروپیگنڈا کا سکرپٹ ملیا میٹ کر دیا: سچائی کے سامنے آتے ہی ’را‘ کی کٹھ پتلیوں کی چیخیں نکل گئیں!

  معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور تجزیہ کار ڈاکٹر فرحان ورک جب بھی  بھارتی فتنہ انگیزی، ان کی فوج کی ناکامیوں اور خفیہ ایجنسی ‘را’ (RAW) کے مکروہ چہرے کو ٹھوس حقائق اور سوشل میڈیا مباحثوں کے ذریعے بے نقاب کرتے ہیں تو بھارتی میڈیا کی بوکھلاہٹ دیکھنے والی ہوتی ہے۔

ڈاکٹر فرحان ورک اپنی دوٹوک گفتگو اور تجزیوں کے ذریعے جب بھی بھارتی پالیسیوں اور انڈین آرمی کی حقیقت دنیا کے سامنے لاتے ہیں تو وہ ان کے منہ پر ایک کرارا تھپڑ ثابت ہوتا ہے۔ ان کی گہرائی سے بھرپور آراء نے بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور بوگس سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے پرخچے اڑا دیے ہیں، جس کے بعد ‘را’ کے پالے ہوئے عناصر کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ سچ کا سامنا کرنے کی سکت نہ ہونے پر یہ سب حسبِ معمول اپنے روایتی چھچھورے پن اور گھٹیا الزام تراشیوں پر اتر آئے ہیں۔

  اپنی اندرونی سیاسی ناکامیوں، مودی سرکار کے گھناؤنے بحرانوں اور بھارتی فوج کی ہر محاذ پر ہزیمت کا ملبہ پاکستان، آئی ایس آئی (ISI) اور پاکستانی شخصیات پر ڈالنا ‘را’ اور بھارتی میڈیا کا دہائیوں پرانا اور گھسا پٹا ڈرامہ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارتی میڈیا کے یہ کٹھ پتلی کردار دراصل ‘را’ کے اشاروں پر ناچنے والے مہرے ہیں، جن کا کام صرف جھوٹ اور فیک نیوز بیچنا ہے۔ ڈاکٹر فرحان ورک کی جانب سے کی جانے والی دوٹوک گفتگو بھارتی میڈیا سیل کے منہ پر ایسا تھپڑ ہے جس سے حواس باختہ ہو کر وہ بغیر کسی ثبوت کے ISI کا نام جپنے کا بوگس ڈرامہ رچا رہے ہیں۔

 دنیا اب بھارتی ریاست اور ان کے پالتو میڈیا کے اس گھناؤنے چہرے سے بخوبی واقف ہو چکی ہے جو ہمیشہ جھوٹے پروپیگنڈے کے بل بوتے پر چلتے ہیں۔ ‘را’ کے ان کارندوں کی اوچھی حرکتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کا سچ ان کے چہروں پر ایک زبردست تھپڑ بن کر پڑا ہے جو ان کی بدترین تاریخی شکست کا اعلان ہے۔

 اس قسم کے سستے اور ‘را’ کے خود ساختہ پروپیگنڈے کی کوئی اخلاقی یا قانونی حقیقت نہیں ہے۔ بھارت اور اس کے ایجنٹ اپنے ہینڈلز کے ذریعے جتنی مرضی مٹی ڈالنے کی کوشش کر لیں وہ اپنے منہ پر پڑنے والے اس تھپڑ اور دنیا بھر میں ہونے والی رسوائی کو اب نہیں چھپا سکتے ۔

editor

Related Articles