سینیٹ میں سفارتی پاسپورٹس پر پابندی کی کوشش ناکام، صارفین کے تحفظ کا بل حکومت کی مخالفت کے باوجود منظور

سینیٹ میں سفارتی پاسپورٹس پر پابندی کی کوشش ناکام، صارفین کے تحفظ کا بل حکومت کی مخالفت کے باوجود منظور

سینیٹ نے وزرائے مملکت، وزیراعظم کے مشیروں، معاونین خصوصی اور اعلیٰ بیوروکریٹس کو سفارتی پاسپورٹس جاری کرنے کا اختیار محدود کرنے سے متعلق نجی بل مسترد کردیا۔

پاسپورٹس (ترمیمی) بل 2026 پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل سلیم رحمان اور دیگر ارکان نے پیش کیا تھا۔ بل میں پاسپورٹس ایکٹ 1974 میں ترمیم کی تجویز دی گئی تھی، جس کا مقصد صرف سرکاری عہدے یا حیثیت کی بنیاد پر سفارتی پاسپورٹ حاصل کرنے کی خودکار اہلیت ختم کرنا تھا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ کابینہ کے اختیار سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں امریکی مشن ، سمندری راستے پر کس کا کنٹرول؟سینٹکام نے بڑا دعوی کر دیا

دوسری جانب سینیٹ نے حکومت کی مخالفت کے باوجود کنزیومر پروٹیکشن (ترمیمی) بل 2026 منظور کرلیا۔ بل کے حق میں 10 اور مخالفت میں 4 ووٹ آئے۔ اس دوران مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

ایوان نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (پلاسٹک بک کورز پر پابندی) ایکٹ 2026 میں ترمیم کی متفقہ طور پر منظوری بھی دی، جس کے ذریعے ایسی استثنیٰ کی شق ختم کردی گئی جو پلاسٹک بک کورز پر پابندی کو غیر مؤثر بنا سکتی تھی۔

مزید برآں، سینیٹ نے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) میں ترمیم کی منظوری دے دی، جبکہ اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 مؤخر کردیا گیا۔

Related Articles