پارلیمنٹ میں لڑنے کے بجائے سڑکوں پر نکل پڑے، پی ٹی آئی نے اپنے ہاتھوں سیاسی طاقت گنوا دی، سہیل وڑائچ

پارلیمنٹ میں لڑنے کے بجائے سڑکوں پر نکل پڑے، پی ٹی آئی نے اپنے ہاتھوں سیاسی طاقت گنوا دی، سہیل وڑائچ

سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے پارلیمانی سیاست میں اپنی طاقت استعمال کرنے کے بجائے احتجاجی سیاست کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں اسے سیاسی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے بقول یہ پہلا لانگ مارچ ہے جو اپنی حکومت گنوا کر ختم ہوا، جبکہ پارٹی کے پاس اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد بھی نہیں تھی۔

آزاد ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ گنڈاپور کے گزشتہ لانگ مارچ کے وقت ہی خبردار کر دیا گیا تھا کہ آئندہ اسلام آباد کی طرف مارچ کیا گیا تو اس کے بعد حکومت نہیں رہے گی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں حکومت ختم ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا میں اقتدار میں ہونے کی وجہ سے نظام کا حصہ تھی، جس کے باعث اسٹیبلشمنٹ سے ملاقاتیں ہوتی تھیں، نظام کے اندر کی خبریں ملتی تھیں اور رابطے بھی برقرار تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی جماعت پورے نظام سے باہر نکل جاتی ہے تو اس کے لیے دوبارہ نظام کا حصہ بننے کی کوشش کرنا ضروری ہو جاتا ہے، لیکن اس کے برعکس نظام سے مزید دور جانے کی کوشش کرنا مثبت سیاسی حکمت عملی نہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے معاملے پر تعاون نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا، جس کے بعد اس کے لیے موجودہ صورت حال پیدا ہوئی۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں ایک بڑی اپوزیشن، خیبر پختونخوا میں تیسری بار حکومت اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے اپنے مؤقف کو آگے بڑھانے کے مواقع موجود تھے، لیکن پارٹی نے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے احتجاجی سیاست اختیار کی۔ ان کے مطابق احتجاجی سیاست کے لیے اب پہلے جیسی عوامی حمایت بھی موجود نہیں رہی اور پنجاب میں ووٹ کی طاقت اسٹریٹ پاور میں تبدیل نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیے انتخابات تک اپنی ووٹ پاور کو استعمال کرنا زیادہ مناسب راستہ تھا، کیونکہ انتخابی طاقت اور سڑکوں پر احتجاج کرنے کی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے رہنماؤں کو پارلیمنٹ میں بحث اور سیاسی مکالمے کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کے پی میں آئینی تبدیلی کے خلاف ٹی ٹی پی اور تحریک انصاف کے بیانیے میں مماثلت

سہیل وڑائچ نے کہا کہ تحریک انصاف کے بعض حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حکومت قربان کرکے سیاسی شہادت حاصل کی ہے، لیکن اگر حکومت صرف عمران خان کی خوشنودی اور مرضی کے مطابق چلانی تھی تو اس کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک بیٹھے بعض یوٹیوبرز پارٹی کی سیاست چلا رہے ہیں اور علیمہ خان بھی ان کے پیچھے ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کی سوچ میں تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

ان کے مطابق یوٹیوبرز کے دباؤ نے تحریک انصاف کو انتہا پسندانہ سیاسی راستے کی طرف دھکیلا اور پارٹی کو ایسی صورت حال میں پہنچا دیا جہاں اس کی واپسی مشکل دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تحریک انصاف کو دوبارہ نظام کا حصہ بننے کے لیے کوشش کرنا ہوگی، لیکن اس کے لیے درمیانی راستہ محدود ہو چکا ہے۔

سہیل وڑائچ نے پارٹی کو مشورہ دیا کہ سیاسی فیصلے سیاست دانوں اور پارلیمنٹ پر چھوڑے جائیں، کیونکہ سیاست دان حالات کے مطابق لچک دکھا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دباؤ، خوف، لالچ یا پروپیگنڈے کے تحت کیے گئے فیصلے نقصان دہ ہوتے ہیں، جبکہ پارلیمانی سیاست ہی مسائل کے حل کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگر سیاسی حکومت ہٹانے اور ایمرجنسی لگانے کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو اس کے نتائج جلد، واضح اور مثبت ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی میں نمایاں کمی آنی چاہیے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ نئی انتظامی صورت حال امن و امان کی بحالی میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو مقامی لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے امن و امان بحال ہو، جیسا کہ ماضی میں سوات اور دیگر علاقوں میں آپریشنز کے ذریعے کوشش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق دہشت گردی مختلف علاقوں سے پھیلتے ہوئے اب آباد اضلاع تک پہنچ چکی تھی، اس لیے اس کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 20 ہزارغیررجسٹرڈ مدارس کا براہِ راست کنٹرول فضل الرحمان نیٹ ورک کے ہاتھ میں ہے،ابوبکر قسام کے کالم میں تہلکہ خیز انکشافات

خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے کہا کہ صوبے میں اچھی حکمرانی کے نتائج پرویز خٹک کے دور میں نظر آئے تھے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی مسلسل انتخابی کامیابیوں کے باوجود بعد کے عرصے میں گڈ گورننس نمایاں طور پر دکھائی نہیں دی۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے انہیں سیاست کا بادشاہ قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانات سوچ سمجھ کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اقتدار کی تبدیلی کے بعد مولانا خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ ایک طرف دہشت گردی کے خطرات ہیں اور دوسری طرف انہیں اپنی سیاسی حیثیت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے لیے سیاسی اور مذہبی حمایت ضروری ہے، اس لیے مولانا فضل الرحمٰن سے دوبارہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے ساتھ مولانا کا اتحاد پارلیمنٹ کے اندر موجود ہے، تاہم انہوں نے پارلیمنٹ سے باہر تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان نہیں کیا اور اپنے لیے دیگر راستے بھی کھلے رکھے ہیں۔

سہیل وڑائچ نے پیپلز پارٹی اور ایمرجنسی کے معاملے پر کہا کہ ان کے خیال میں صدر آصف علی زرداری ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں تھے اور پیپلز پارٹی نے بھی اس فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر مختلف تجاویز زیر غور ہیں، جن میں نئے صوبوں کے قیام اور بعض وفاقی اداروں یا علاقوں کو الگ انتظامی حیثیت دینے کے امکانات شامل ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ابھی دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی واضح ڈیڈ لاک سامنے نہیں آیا۔

آخر میں تحریک انصاف کو مشورہ دیتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ سیاسی تحریکیں اصولوں، قومی معاملات اور بین الاقوامی مسائل کی بنیاد پر چلتی ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے جمہوریت، پارلیمنٹ، آزاد پریس اور دیگر سیاست دانوں کے ساتھ اپنے رویے سے متعلق غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو جمہوری اور پارلیمانی سیاست اختیار کرنی چاہیے، اپنے ارکان کو پارلیمنٹ میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کے ذریعے سیاسی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق نظام کو توڑنے کی کوششوں کی اس وقت گنجائش نہیں اور نہ ہی انہیں تحریک انصاف کے حق میں عوامی حمایت حاصل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

Related Articles