امریکی ریپر میکلمور نے اپنے حالیہ کنسرٹ میں فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں میں جاری انسانی بحرانوں پر آواز اٹھائی اور امریکی امیگریشن ادارے آئی سی ای کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
سیئٹل سے تعلق رکھنے والے معروف ریپر میکلمور نے 22 اکتوبر کو امریکی ریاست کولوراڈو کے ریڈ راکس ایمفی تھیٹر میں کنسرٹ کیا، جہاں انہوں نے 17 گانوں پر مشتمل پرفارمنس پیش کی۔ ایڈ شیرن کے شمالی امریکا کے دورے میں معاون فنکار کے طور پر ان کی شمولیت کا فیصلہ واپس لیے جانے کے بعد یہ ان کا پہلا کنسرٹ تھا۔
پرفارمنس کے دوران میکلمور نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی انسان کو تکلیف میں دیکھ کر اس کے حق میں آواز اٹھانا سیاست نہیں بلکہ انسانیت کا تقاضا ہے۔
انہوں نے فلسطین کی آزادی کا مطالبہ دہرایا اور سوڈان، کانگو، لبنان اور ہیٹی میں مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔
میکلمور نے امریکا کے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ادارے، جسے آئی سی ای کہا جاتا ہے، پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے ان افراد کی مشکلات کا ذکر کیا جو امیگریشن سے متعلق کارروائیوں کے خوف کے باعث اپنے گھروں سے باہر نکلنے میں بھی ہچکچاتے ہیں۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر ریپر نے محبت کو اپنے پیغام کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی تقریر پر کنسرٹ میں موجود افراد نے تالیاں بجائیں اور نعروں کے ذریعے ردعمل کا اظہار کیا۔
میکلمور کی یہ پرفارمنس ان کے آئندہ یورپی دورے سے پہلے سامنے آئی ہے، جسے ’فری فلسطین ٹور‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس دورے کے کئی شوز پہلے ہی فروخت ہوچکے ہیں۔
میکلمور کا یہ بیان ایک بار پھر اس بحث کو سامنے لاتا ہے کہ موسیقی اور فنون سے وابستہ شخصیات انسانی حقوق، جنگوں اور سیاسی معاملات پر اپنی آواز کس طرح استعمال کرتی ہیں۔