وفاقی مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو جیل میں نہیں رکھا گیا بلکہ حفاظتی تحویل میں ایک اچھے ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ سہیل آفریدی وہاں آرام سے رہ رہے ہیں اور انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کا مقصد انہیں ممکنہ نقصان سے بچانا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سہیل آفریدی خود بھی حفاظتی تحویل میں رہنے کے خواہش مند ہیں تاکہ ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
رانا ثناء اللہ نے سہیل آفریدی کے اسلام آباد لانے کے لیے بیس لاکھ افراد جمع کرنے کے دعوے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کو اسلام آباد لانے کی بات کی جا رہی تھی وہ اب سہیل آفریدی کے مخالف ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ضد نہیں چلے گی! وزیراعظم ہاؤس میں ہی ملاقات ہوگی، رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کی شرائط مسترد کردیں
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات نافذ کیے تھے۔ اس کے بعد سہیل آفریدی اور بعض دیگر تحریک انصاف رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے 12 اکتوبر کو تصدیق کی تھی کہ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی تحویل میں لیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے بھی سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کی تصدیق کی تھی۔
رانا ثناء اللہ نے گفتگو میں تحریک انصاف کی قیادت پر خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے بھی تنقید کی۔ ا نہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :مذاکرات کےدروازے کھلے ، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا : رانا ثنا اللہ


