پیٹرولیم لیوی میں کمی اور ریلیف اسکیم میں توسیع پر حکومت، جماعت اسلامی میں اتفاق

پیٹرولیم لیوی میں کمی اور ریلیف اسکیم میں توسیع پر حکومت، جماعت اسلامی میں اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے اور مالی وسائل کی گنجائش کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

یہ بات وزیراعظم نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عوامی بوجھ کا اعتراف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت علاقائی بحران کے خاتمے اور صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق حکومتی پالیسیوں کے بجائے علاقائی اور عالمی حالات سے ہے، تاہم حکومت اپنی مالی استطاعت کے مطابق عوام کو سہولت فراہم کرتی رہے گی۔

ملاقات میں وزیراعظم نے کم آمدن والے طبقے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ریلیف اسکیم کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق اس اسکیم میں اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔

لیوی میں کمی کی تجویز

جماعت اسلامی کے وفد نے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے اور عوام کو مزید ریلیف دینے کے لیے اپنا مؤقف پیش کیا۔ وزیراعظم نے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر وفد کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے تین، تین ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر سفارشات مرتب کی جائیں گی۔ کمیٹی کے ذمے دو اہم امور ہوں گے: عوام کے لیے جاری پیٹرول ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لینا اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے لیے بجٹ میں شامل کی جا سکنے والی قابلِ عمل تجاویز تیار کرنا۔

حکومتی کمیٹی نامزد

وزیراعظم نے حکومتی کمیٹی کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور مشیر وزیراعظم رانا ثناءاللہ کو نامزد کیا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے بھی تین ارکان کمیٹی میں شامل ہوں گے۔

ملاقات میں جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ، نصر اللہ رندھاوا اور عنایت اللہ شریک ہوئے۔ حکومتی وفد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔

editor

Related Articles