پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں گرما گرمی، متعدد ارکان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں گرما گرمی، متعدد ارکان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گرما گرمی کے بعد متعدد ارکان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ جبکہ دیگر ارکان انہیں آوازیں دیتے رہ گئے

 ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین اور رکن اسمبلی خواجہ شیراز اجلاس چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کو جاری ہوئے 7 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اس دوران خواجہ شیراز کو آوازیں دی گئیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’دیتے رہ گئے، فون سن کر آتا ہوں‘۔

اجلاس میں رہنماؤں کے میڈیا پر اپنی ہی جماعت کے خلاف بیانات پر ارکان نے تنقید کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر سے ایسے بیانات دینے والے رہنماؤں کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سینیٹر مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بیمار ہیں اور سہیل آفریدی کو مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی پڑی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت نے تحریک انصاف باڑہ کے 20 کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

ذرائع کے مطابق مشعال یوسفزئی کے مؤقف پر سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی سمیت محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر اعتماد کیا ہے۔

اس موقع پر شفقت اعوان نے مشعال یوسفزئی کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپنے ممبران یا سہیل آفریدی پر الزام نہ لگائیں۔ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے بجائے ہمارے ارکان اپنوں پر الزام لگا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کے ارکان کی اکثریت نے رائے دی کہ ہر صورت مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔ نور الحق قادری نے 3 مرتبہ ’مذاکرات، مذاکرات، مذاکرات‘ کہا، جس پر اجلاس میں موجود ارکان نے تالیاں بجائیں۔

Related Articles