پاکستان کی بہترین سفارتی حکمتِ عملی نے جنگ کے بیانیے کو مذاکرات کی طرف موڑ دیا، رشید صافی

پاکستان کی بہترین سفارتی حکمتِ عملی نے جنگ کے بیانیے کو مذاکرات کی طرف موڑ دیا، رشید صافی

پاکستان کی علاقائی سفارت کاری، ایران کے ساتھ بڑھتے رابطوں، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے کردار، سابقہ حکومتوں کی خارجہ پالیسی، خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتِ حال اور مولانا فضل الرحمان کی طویل سیاسی جدوجہد پر سینئر صحافی اور تجزیہ کار رشید صافی نے آزاد ڈیجیٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ انٹرویو میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے کردار، ایران کے ساتھ ممکنہ علاقائی تعاون، امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے خدشات، ماضی کے سفارتی فیصلوں، پی ٹی آئی کی سیاست اور مولانا فضل الرحمان کے سیاسی و مالی معاملات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔

رشید صافی کے مطابق خطے میں جنگ کے خدشات کے دوران پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ رابطوں اور سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی قیادت کو اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش ایک اہم سفارتی اقدام ہے۔ ان کے تجزیے میں موجودہ صورتِ حال کا موازنہ ماضی کی حکومتوں کی خارجہ پالیسی اور سیاسی فیصلوں سے بھی کیا گیا، جبکہ پی ٹی آئی کے ناقدین، بیرونِ ملک بیٹھے سیاسی مخالفین اور بھارت کے بیانیے سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔

ایران کا اہم دورہ

انٹرویو میں کہا گیا کہ تین اہم مسلم ممالک کی قیادت ایک بڑی علاقائی طاقت ایران کے دورے پر پہنچی، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش قرار دیا گیا۔ گفتگو کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب عالمی سطح پر یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔

رشید صافی کے تجزیے میں اس سفارتی رابطے کا کریڈٹ پاکستان اور اس کی قیادت کو دیا گیا۔ ان کے مطابق دنیا میں جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات موجود تھے، لیکن پاکستان نے ایسا سفارتی قدم اٹھایا جس سے مذاکرات اور بات چیت کے امکانات کو تقویت ملی۔

انٹرویو میں رشید صافی نے کہا  کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران گئے اور اس سفارتی کوشش میں سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے اہم رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی  تھے جہاں معاملات کو لڑائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے پر توجہ دی گئی فیلڈ مارشل کی بہترین سفارتی حکمت عملی نے جنگ کے بیانیے کو مذاکرات کی طرف موڑا ۔

مکہ معاہدہ اور ایران

گفتگو میں مکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے وابستہ ممالک کے درمیان تعاون خطے کی سلامتی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے رشید صافی  کے مطابق سعودی عرب کی مضبوط معیشت اور پاکستان کی عسکری صلاحیت اس تعاون کے اہم پہلو ہیں۔

رشید صافی کے تجزیے میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ ایران کی جانب سے اس معاہدے میں ممکنہ شمولیت کے حوالے سے مثبت اشارے ملنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران سمیت خطے کے اہم ممالک مشترکہ تعاون کے کسی مؤثر نظام کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے کشیدگی کم کرنے اور علاقائی استحکام کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

انٹرویو میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کے عسکری حکام گزشتہ ہفتے تہران کا دورہ کر چکے تھے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے بعد 48 گھنٹوں کے اندر سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو ساتھ لے کر تہران جانے کا ذکر کیا گیا۔ گفتگو میں پاسدارانِ انقلاب کے رہنما محسن رضائی کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں اس نوعیت کے اقدام کو پہلے ہی کر لینے کی ضرورت پر بات کی گئی تھی۔

جنگ کے بجائے مذاکرات

رشید صافی کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوشش کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور مسائل کا حل فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے اقدام کو ایک بڑا سفارتی قدم قرار دیا گیا۔

گفتگو کے مطابق اس پیش رفت کو صرف عسکری قیادت کی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ جدید دور میں سیاسی اور عسکری سفارت کاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب اور ترکیہ کی جانب سے اہم وزرا اور حکام کی شرکت کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

انٹرویو میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے جنگ کے خدشات کے ماحول میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔ تاہم اس حوالے سے مختلف ممالک کے باضابطہ مؤقف اور مذاکرات کے حتمی نتائج اپنی جگہ اہم رہیں گے۔

بھارت کے ردعمل پر تنقید

رشید صافی نے گفتگو میں بھارت کے ذرائع ابلاغ کے رویے پر بھی تنقید کی  پاکستان کی سفارتی کامیابیوں سے متعلق خبروں کو بھارت میں بعض حلقے کم اہمیت دینے یا منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انٹرویو میں بیرونِ ملک بیٹھے بعض پاکستانی سیاسی مخالفین اور پی ٹی آئی کے ناقدین کے رویے پر بھی بات کی گئی۔ رشید صافی کے تجزیے کے مطابق کچھ افراد پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو مثبت انداز میں دیکھنے کے بجائے ان پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ بعض معاملات میں ان کا بیانیہ بھارتی مؤقف سے مشابہ دکھائی دیتا ہے۔

گفتگو میں فاروق عبداللہ کے کشمیر سے متعلق بیان کا حوالہ بھی دیا گیا، جسے پاکستان کے کردار کے اعتراف کے طور پر پیش کیا گیا۔ انٹرویو میں کہا گیا کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے کردار سے متعلق ایسے بیانات ان حلقوں کے لیے جواب ہیں جو پاکستان کی سفارتی کوششوں کو کم تر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

عسکری اور سیاسی ہم آہنگی

انٹرویو میں پاکستان کی موجودہ عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کو بھی موضوع بنایا گیا۔ رشید صافی کے مطابق جب ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت اہم قومی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں تو اس سے ملک کی سفارتی پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔

گفتگو میں ماضی کے ایک سیاسی دور کا حوالہ دیتے ہوئے ٹینکوں میں ڈیزل نہ ہونے سے متعلق بیان کا ذکر کیا گیا اور اس کے مقابلے میں موجودہ دور میں عسکری و سیاسی قیادت کے ایک صفحے پر ہونے کو اہم قرار دیا گیا۔

انٹرویو کے اس حصے میں موجودہ دورے اور ماضی کے ادوار کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ پاکستان کے پاس خارجہ پالیسی اور علاقائی تعلقات کے حوالے سے امکانات پہلے بھی موجود تھے، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے قیادت کے فیصلے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ماضی کی خارجہ پالیسی پر سوالات

رشید صافی نے انٹرویو میں سابقہ حکومتوں کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ماضی کے بعض فیصلوں کے باعث مشکلات پیدا ہوئیں۔ گفتگو میں 2019 کے دوران سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والے بگاڑ کا حوالہ دیا گیا، جبکہ ملائیشیا اور سعودی عرب کے حوالے سے سفارتی دباؤ اور مشکلات پر بھی بات کی گئی۔

انٹرویو میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ پاکستان کے پاس مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی سطح پر کردار ادا کرنے کے مواقع موجود تھے، لیکن ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے درست سیاسی فیصلے اور مؤثر قیادت ضروری تھی۔

رشید صافی کے تجزیے کے مطابق موجودہ سفارتی سرگرمیاں پاکستان کو مسلم دنیا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہیں۔ گفتگو میں پاکستان کو امتِ مسلمہ کے لیے امید کا مرکز بنتا ہوا بھی قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اصل مسئلہ ماضی میں ایجنڈے یا صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ قیادت کی جانب سے ان امکانات کو مؤثر انداز میں استعمال نہ کرنا تھا۔

چینی کمپنیوں کا معاملہ

انٹرویو میں سابقہ حکومت کے دور میں چینی کمپنیوں کے خلاف انکوائری کمیشن اور پی آئی اے کے پائلٹس سے متعلق بیانات پر بھی تفصیلی تنقید کی گئی۔ رشید صافی کے مطابق ان اقدامات اور بیانات نے پاکستان کی معیشت اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

گفتگو میں کہا گیا کہ چینی کمپنیوں کے خلاف کارروائیوں اور پی آئی اے کے پائلٹس سے متعلق متنازع بیان کے باعث پاکستان کو مالی اور سفارتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انٹرویو میں ان فیصلوں کے ذمہ داران سے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا حساب ہونا چاہیے۔

اس سلسلے میں بعض سابقہ رہنماؤں کے موجودہ حالات کا حوالہ بھی دیا گیا اور تنقیدی انداز میں کہا گیا کہ جن فیصلوں کے نتائج ملک کو بھگتنا پڑے، ان کے ذمہ داروں کو بھی ان فیصلوں کے اثرات کا جواب دینا چاہیے۔ گفتگو میں اسے ماضی کے سیاسی طرزِ حکمرانی کے احتساب سے جوڑا گیا۔

پی ٹی آئی کی سیاست پر تنقید

رشید صافی نے انٹرویو میں پی ٹی آئی کے سیاسی کردار اور اس کے مخالفین کے ساتھ جاری کشمکش پر بھی گفتگو کی۔ ان کے تجزیے میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ بعض سیاسی حلقوں کا بنیادی مسئلہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہے اور وہ اسے سیاسی طور پر پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں۔

گفتگو میں خیبرپختونخوا کی صورتِ حال، گورنر راج اور ایمرجنسی کے امکان یا نفاذ سے متعلق بحث بھی شامل رہی۔ رشید صافی نے صوبے کے حالات کو خراب حکمرانی اور بعض سیاسی اقدامات کے تناظر میں دیکھا۔ انٹرویو میں صوبائی حکومت کے طرزِ عمل اور سیاسی فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان اقدامات کے نتائج پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

اس دوران 9 مئی کے واقعات سے متعلق قانونی معاملات اور ایسے قوانین پر بھی گفتگو ہوئی جنہیں انٹرویو میں واقعات کے ذمہ داران کو رعایت دینے کے مترادف قرار دیا گیا۔ گفتگو کے مطابق ان قوانین کا جائزہ لینے اور انہیں واپس لینے کے معاملے کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔

اربوں ڈالر کے نقصان کا دعویٰ

انٹرویو میں غلام سرور خان اور مراد سعید کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو پہنچنے والے مبینہ مالی نقصان پر بھی بات کی گئی۔ رشید صافی کے تجزیے میں کہا گیا کہ قومی اداروں اور ملک کی ساکھ سے متعلق بیانات کے اثرات صرف سیاسی بحث تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے معاشی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

گفتگو میں ان معاملات پر جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر سیاسی بیانات یا فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ داروں کا احتساب کس طرح ہوگا۔

انٹرویو میں بیرونِ ملک موجود بعض سیاسی رہنماؤں اور سابقہ عہدیداروں کا ذکر بھی آیا۔ تنقیدی انداز میں کہا گیا کہ ملک کے اندر کیے گئے فیصلوں کے نتائج عوام اور معیشت کو برداشت کرنا پڑتے ہیں، اس لیے سیاسی قیادت کو اپنے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاست

انٹرویو کے دوسرے بڑے حصے میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی طویل سیاسی زندگی، بدلتے سیاسی مؤقف، اتحادی سیاست اور خیبرپختونخوا میں ان کے اثر و رسوخ پر گفتگو کی گئی۔ رشید صافی نے مولانا فضل الرحمان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی سیاست کے پاکستان پر اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے۔

گفتگو میں یہ نکتہ بھی سامنے آیا کہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی بیانات اور اتحادی فیصلوں کو ان کے ماضی کے سیاسی کردار کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ انٹرویو میں ان کے سیاسی مفادات اور مختلف ادوار میں اختیار کیے گئے مؤقف پر تنقید کی گئی، جبکہ انہیں موقع شناس سیاست دان قرار دیتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ وہ بدلتے حالات کے مطابق اپنا سیاسی رویہ تبدیل کرتے ہیں۔

رشید صافی کے تجزیے میں مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات کو بھی اہمیت دی گئی۔ گفتگو کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں پی ٹی آئی کے ساتھ اختلاف ایک نمایاں پہلو ہے، خصوصاً انتخابی مینڈیٹ اور سیاسی نمائندگی سے متعلق ان کے مؤقف کے باعث یہ کشمکش سامنے آتی رہی ہے۔

2002 کی سیاست اور مشرف دور

انٹرویو میں 2002 میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی حکومت اور جنرل پرویز مشرف کے دور کی سیاست کا بھی حوالہ دیا گیا۔ اس دور میں سیاسی اتحادوں، حکومت سازی اور سیاسی جوڑ توڑ پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔

رشید صافی کے تجزیے کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی سیاسی تاریخ میں مختلف جماعتوں اور قوتوں کے ساتھ اتحاد اہمیت رکھتے ہیں۔ انٹرویو میں اس بات پر تنقید کی گئی کہ سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں اپنے مفادات کے مطابق اتحاد قائم کرتی رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے سیاسی مؤقف اور عملی اقدامات کے درمیان فرق پر سوالات اٹھتے ہیں۔

گفتگو میں محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی اتحادوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ بات زیرِ بحث آئی کہ مختلف جماعتیں وقت اور سیاسی حالات کے مطابق ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں، جبکہ انتخابی سیاست میں اتحادوں اور نظریاتی مؤقف کا کردار بھی اہم رہتا ہے۔

اثاثے اور ذرائع آمدن

رشید صافی نے مولانا فضل الرحمان کے اثاثوں اور ذرائع آمدن کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ انٹرویو میں الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثوں اور زمینی حقائق کے درمیان ممکنہ فرق پر گفتگو کی گئی ۔

گفتگو میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ طویل سیاسی زندگی گزارنے والے رہنماؤں کے اثاثوں، ذرائع آمدن اور مالی معاملات کے بارے میں عوام کو کس حد تک واضح معلومات دستیاب ہیں۔ انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان کے مالی معاملات سے متعلق تنقیدی سوالات کو ان کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا۔یہ نکات انٹرویو میں اٹھائے گئے سوالات اور تبصروں کا حصہ تھے؛ ان سے کسی مالی بے ضابطگی یا غیر قانونی عمل کا ثابت ہونا لازم نہیں آتا۔

سینیٹ ٹکٹ اور پارٹی فنڈنگ

انٹرویو میں جے یو آئی کے سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی فنڈنگ کے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ رشید صافی نے ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی چندے کے نام پر رقوم لینے سے متعلق الزامات کا ذکر کیا اور اس حوالے سے سوالات اٹھائے۔

گفتگو میں یہ کہا کہ سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم، چندے اور مالی معاملات شفاف ہونے چاہییں، تاکہ سیاسی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ انٹرویو میں جے یو آئی کے مالی معاملات اور ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق تنقیدی مؤقف سامنے آیا، تاہم ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے لیے متعلقہ دستاویزات یا آزادانہ تصدیق ضروری ہوگی،رشید صافی کی گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی طرزِ عمل، ان کے بدلتے بیانات اور مختلف سیاسی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو بھی انہی سوالات کے تناظر میں دیکھا گیا۔

اداروں اور ریاست کا معاملہ

انٹرویو کے ایک حصے میں ایسے سیاست دانوں کے رویے پر تنقید کی گئی جن کے بیانات کو رشید صافی کے تجزیے میں ریاستی اداروں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا گیا۔ گفتگو میں کہا گیا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن قومی اداروں اور ملک کی ساکھ سے متعلق معاملات میں ذمہ داری کا مظاہرہ ضروری ہے۔

اس بحث میں پی ٹی آئی، اس کے ناقدین اور دیگر سیاسی اتحادوں کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا۔ رشید صافی کے مطابق سیاسی رہنماؤں کو اپنے بیانات کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا چاہیے اور ایسے معاملات سے گریز کرنا چاہیے جو پاکستان کے قومی مفادات کو متاثر کر سکتے ہوں،انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ساتھ محمود خان اچکزئی اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کے اتحادوں اور سیاسی حکمتِ عملی پر بھی تبصرہ کیا گیا۔

انتخابی سیاست اور نظریاتی ووٹ

انٹرویو کے آخری حصے میں خیبرپختونخوا کے انتخابی حلقوں، نظریاتی ووٹ اور سیاسی جماعتوں کے اثر و رسوخ پر گفتگو ہوئی۔ رشید صافی نے صوبے کی سیاست میں مختلف جماعتوں کی پوزیشن اور انتخابی حمایت کے عوامل کا جائزہ لیا۔

گفتگو میں اس امر پر بھی بات کی گئی کہ سیاسی جماعتوں کی کامیابی صرف قیادت کے بیانات سے نہیں بلکہ ان کے ووٹ بینک، مقامی اثر و رسوخ، نظریاتی وابستگی اور عوام کے ساتھ تعلقات سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور پی ٹی آئی کے ساتھ ان کے اختلافات کو اسی تناظر میں دیکھا گیا۔

انٹرویو میں مجموعی طور پر پاکستان کی علاقائی سفارت کاری، ایران کے ساتھ رابطوں، مسلم ممالک کے ممکنہ تعاون، سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں، پی ٹی آئی کی سیاست اور مولانا فضل الرحمان کے سیاسی و مالی معاملات پر مختلف زاویوں سے گفتگو کی گئی۔

رشید صافی کے تجزیے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ پاکستان کے لیے خطے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع موجود ہیں، لیکن ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے مضبوط سفارت کاری، سیاسی ہم آہنگی، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور قومی معاملات میں جواب دہی ضروری ہے۔ دوسری جانب انٹرویو میں ماضی کی سیاسی قیادت اور مختلف جماعتوں کے کردار پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے فیصلوں اور بیانات کے اثرات کا جائزہ لینے پر زور دیا گیا۔

editor

Related Articles