معروف جاپانی آٹو موبائل کمپنی ٹویوٹا نے اپنی اسپورٹس کار ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے جاپان کی سپر ٹائیکیو ریسنگ سیریز میں جی آر 86 فیوچر ایف آر کانسیپٹکی آزمائش کی ہے۔ اس تجرباتی گاڑی میں نیا 2.0 لیٹر فور سلنڈر انجن استعمال کیا گیا ہے، جو مستقبل کی اسپورٹس کاروں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
اس نئے ماڈل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلے استعمال ہونے والے ٹربو چارجڈ انجن کی جگہ قدرتی طور پر ہوا کھینچنے والا انجن نصب کیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد گاڑی کی کارکردگی اور ایکسیلیریٹر کے ردعمل کو بہتر بنانا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس انجن کا کوڈ نام جی 20 ای ہے اور یہ تقریباً 220 ہارس پاور پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹویوٹا کے نئے، نسبتاً چھوٹے اور ہلکے انجنز کے خاندان کا حصہ ہے۔
نئے انجن کے استعمال سے گاڑی کا اگلا حصہ ہلکا ہونے کی توقع ہے، جس سے اس کی ہینڈلنگ بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ٹربو لیگ ختم ہونے سے ایکسیلیریٹر دبانے پر انجن کا ردعمل زیادہ فوری ہونے کا امکان ہے۔
گاڑی کے ڈیزائن میں بہتر کنٹرول اور ہینڈلنگ کے لیے اگلے اور پچھلے حصے میں ڈبل وِش بون سسپنشن بھی استعمال کیا گیا ہے۔ گازو ریسنگ کے ڈرائیور کازویا اوشیما کے مطابق، نیا انجن توقعات سے زیادہ آر پی ایم پر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ خصوصیت اسپورٹس کاروں کی کارکردگی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس تجرباتی گاڑی کو ٹویوٹا کے اندرونی حلقوں میں لیون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تاہم، کمپنی نے ابھی تک اگلی جنریشن کی GR86 کے انجن یا اس کی تیاری کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔
ماہرین کے مطابق، یہ تجربہ ٹویوٹا کی مستقبل کی اسپورٹس کاروں میں استعمال ہونے والی نئی انجن ٹیکنالوجی کی اہم جھلک پیش کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کمپنی اس ٹیکنالوجی کو اپنی آئندہ پروڈکشن گاڑیوں میں کب اور کس شکل میں متعارف کراتی ہے۔