ہندوتوا نظریے کا بڑھتا اثر، بھارت میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو شدید خطرے لاحق

ہندوتوا نظریے کا بڑھتا اثر، بھارت میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو شدید خطرے لاحق

بھارت میں مساجد اور اسلامی تاریخی مقامات کے خلاف کارروائیوں پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے دور میں ہندوتوا نظریے کو فروغ ملنے سے مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور تاریخی ورثے کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی جریدے شیعہ ویوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی میں بلدیاتی حکام کی جانب سے متعدد مساجد اور اسلامی تاریخی مقامات کو خالی کرانے اور مسمار کرنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مودی کا مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ کہنا، 11 ہزار مسلم گھرانے مسمار، مساجد شہید، بھارت اقلیتوں کے لیے جنم بھومی کی بجائے ’جہنم بھومی‘ بن گیا

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض مقامات پر مسماری کی کارروائیوں سے قبل پانی اور بجلی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی منقطع کی گئی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، بھارت کی مختلف ریاستوں میں2 ہزار سے زائد کارروائیوں کے دوران درجنوں مساجد اور مدارس کو مسمار کیے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔

دوسری جانب، عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹنگ کے حوالے سے بھارتی اپوزیشن اور مسلم رہنماؤں کی جانب سے بھی ایسی کارروائیوں پر تنقید کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ ناقدین ان اقدامات کو سیاسی مفادات سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذہبی مقامات کے خلاف کارروائیوں سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ سکتا ہے۔

بھارت میں مساجد اور دیگر مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات نے مذہبی آزادی، قانون کی یکساں عمل داری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ناقدین کے مطابق، کسی بھی مذہبی مقام کے خلاف کارروائی میں شفاف قانونی طریقۂ کار، عدالتی احکامات اور متاثرہ افراد کے حقوق کا احترام ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی اور تاریخی ورثے کا تحفظ کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

editor

Related Articles