پاکستان کو اپنے مشترکہ علاقائی سوشل میڈیا نظام کی ضرورت کیوں ہے؟ ڈاکٹر فرحان ورک کے اہم انکشافات

پاکستان کو اپنے مشترکہ علاقائی سوشل میڈیا نظام کی ضرورت کیوں ہے؟ ڈاکٹر فرحان ورک کے اہم انکشافات

تحریر: ڈاکٹر فرحان ورک

ذرا تصور کریں کہ کل صبح آپ سو کر اٹھتے ہیں اور واشنگٹن سے ایک بریکنگ نیوز آتی ہے،  امریکی صدر نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے ہیں جس کے تحت پاکستان کی مسلح افواج، یا ہمارے قومی سلامتی کے کسی اہم ادارے کو امریکہ کی فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن (FTO) کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے، اس ایک دستخط کے محض چوبیس گھنٹے کے اندر پاکستان کا ڈیجیٹل منظرنامہ کیسا ہوگا؟

کیلیفورنیا میں بیٹھے خودکار الگورتھم ایک ساتھ حرکت میں آ جائینگے۔ یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس پر موجود پاکستان کا ہر آفیشل پیج راتوں رات غائب ہوجائے گا ، ملی نغمے، چھ ستمبر کے خراجِ عقیدت اور ہمارے شہدا کی تصاویر انٹرنیٹ سے مٹا دی جائیں گی ، پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز کی لائیو سٹریم بند ہوجائے گی۔ پچیس کروڑ کی آبادی والے ایک ایٹمی ملک کے اندر، پاکستانی شہری اچانک خود کو اس حال میں پائینگے کہ وہ اپنے ہی سمارٹ فونز پر اپنی ہی فوج کے دفاع میں نا ایک جملہ لکھ سکیں گے اور نا کوئی ایک ویڈیو کلپ شئیر کر سکیں گے۔

اگر آپ یہ سطریں غور سے پڑھ رہے ہیں تو آپ کے ذہن میں فطری طور پر ایک سوال ضرور آئے گا؛ کیا یہ ایک انتہائی فرضی بات نہیں ہے؟ کیا واقعی کوئی غیر ملکی حکومت ایک خودمختار ملک کی آئینی فوج کو دہشتگرد تنظیم قرار دیکر عالمی ٹیک پلیٹ فارمز کو اس بات پر مجبور کر سکتی ہے کہ اسکا نام و نشان تک مٹا دیا جائے؟ جی ہاں، بالکل ایسا ہو سکتا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت ہماری آنکھوں کے بالکل سامنے ہو رہا ہے ، آئیں اسکی کڑیاں ملاتے ہیں۔

28 اکتوبر 2026 کو یوٹیوب نے میرے چینل سے ایک ویڈیو ڈیلیٹ کردی اور اکاونٹ پر “پرتشدد مجرمانہ تنظیموں” (Violent criminal organisations) کی پالیسی کے تحت کمیونٹی گائیڈ لائنز کی وارننگ لگادی۔ آخر اس ویڈیو کے اندر ایسا کیا تھا؟ اس ویڈیو میں تہران میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی اجلاس کی کوریج موجود تھی ، اس سرکاری میز کے گرد وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترک نمائندے اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بیٹھے ہوئے تھے،  ویڈیو کا ایک ایک فریم ریاستوں کے درمیان سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے گرد گھوم رہا تھا۔

یہاں ایک لمحے کے لئے رکیں اور ذرا غور کریں کہ آخر خودمختار ملکوں کے درمیان ہونے والی ایک سرکاری سفارتی ملاقات کے اندر سلیکون ویلی کے الگورتھم کو کون سا جرم نظر آ گیا۔

جب ہم نے اس ویڈیو کے ایک ایک فریم کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو اصل وجہ سامنے آ گئی۔ اس سرکاری میز پر ایران کے سرکاری عہدیدار اور سابق کمانڈر محسن رضائی اپنی سبز رنگ کی وردی پہنے بیٹھے تھے جس کی جیب پر پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا نشان لگا ہوا تھا۔ چونکہ واشنگٹن نے 2019 میں، اور اسکے بعد یورپی یونین اور برطانیہ نے 2026 میں آئی آر جی سی کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا، اسلئے یوٹیوب کے خودکار بصری اور آڈیو سکینرز نے محسن رضائی کی وردی کے نشان کو پکڑ لیا اور ایک ریاستی سطح کی امن کانفرنس کو ہی انتہاپسندانہ مواد قرار دے دیا۔

ہم پاکستانی ہیں، ہماری وفاداری خالصتاً پاکستان کے قومی مفاد کے ساتھ ہے، اور ہمیں تہران کی پالیسیوں سے ہزار اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن ذرا اس مثال کو بنیادی انصاف کے ترازو پر رکھ کر تولیں۔ ایران میں لازمی فوجی سروس کا قانون نافذ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں عام نوجوان قانون کے تحت اس شاخ میں بھرتی ہوتے ہیں۔ مغربی دارالحکومتوں کے ایک سیاسی فیصلے کی وجہ سے آج پوری ایک قوم پر سوشل میڈیا پر اپنی ہی فوج کا نام لینے پر پابندی ہے، ایک خاندان اپنے لازمی سروس کرنے والے بیٹے کی وردی میں تصویر پوسٹ نہیں کر سکتا، اور ہمسایہ ممالک کیلیفورنیا کے دہشتگردی فلٹر کی زد میں آئے بغیر سرکاری سفارتی ملاقاتیں بھی نشر نہیں کر سکتے۔

یہاں سے ایک دوسرا سوال جنم لیتا ہے جس کا سامنا اسلام آباد کے ہر پالیسی ساز کو کرنا ہوگا۔ اگر امریکہ کسی غیر ملکی فوجی ادارے پر پابندی لگاتا ہے تو یوٹیوب ان ویڈیوز کو صرف امریکہ کے اندر بلاک کیوں نہیں کردیتا جبکہ پاکستان، ایران، بھارت یا بنگلہ دیش میں انہیں کھلا رہنے دے؟ آخر یوٹیوب کاپی رائٹ کے تنازعات یا مقامی عدالتی احکامات کی بنا پر مخصوص ممالک میں ویڈیوز روکنے کے لئے ہر روز جیو بلاکنگ (Geo-blocking) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہی ہے۔ پھر امریکہ کی ایک پابندی کو پوری دنیا پر کیوں مسلط کیا جاتا ہے؟

اسکا جواب امریکہ کے ایک وسیع قانون میں چھپا ہے جسے میٹیریل سپورٹ لا (18 U.S.C. § 2339B) کہا جاتا ہے ، یہ قانون دیکھنے والے کے مقام کو نہیں بلکہ کمپنی کو کنٹرول کرتا ہے۔ چونکہ گوگل، میٹا اور ایکس کے ہیڈکوارٹر کیلیفورنیا میں واقع ہیں، اسلئے امریکی وفاقی قانون انکے سرورز کو دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی ایسے ادارے کو خدمات یا مواصلاتی سہولت فراہم کرنے سے روکتا ہے جسے واشنگٹن نے بلیک لسٹ کر رکھا ہو۔

ماؤنٹین ویو میں بیٹھے کارپوریٹ وکلا کی نظر میں، اگر انکا سرور کسی بلیک لسٹڈ فوجی وردی والی ویڈیو کو ہوسٹ اور سٹریم کرنے کی اجازت دیتا ہے، چاہے اسے صرف اسلام آباد یا تہران کے شہری ہی کیوں نا دیکھ رہے ہوں، تو اس سے امریکی ٹیک کمپنیوں کے مالکان کو وفاقی عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خود کو بچانے کے لئے سلیکون ویلی کے مالکان سب سے آسان راستہ چنتے ہیں؛ وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی ایک فہرست کو پوری دنیا کے لئے اظہارِ رائے کا قانون بنا دیتے ہیں۔

آج سے چھ سال پہلے میں نے پیشگوئی کی تھی کہ یہ ڈیجیٹل جال بالکل اسی طرح ہمارے گرد تنگ ہوجائے گا۔ جب واشنگٹن نے 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا تو فیس بک اور انسٹاگرام نے پوری دنیا میں انکی تصاویر صرف اسلئے ڈیلیٹ کردیں کیونکہ امریکی قانون سازوں نے اسکا مطالبہ کیا تھا، اور یوں واشنگٹن کے سیاسی فرامین کو پوری دنیا پر نافذ کردیا گیا۔ ان پلیٹ فارمز پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائیں تو آپ کی ریچ گرا دی جاتی ہے۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کریں تو آپ کا چینل بند کردیا جاتا ہے۔ لیکن جب پاکستان کی ایف آئی اے (FIA) پاکستان کے اندر دہشتگردی اور ریاست مخالف تخریب کاری کو ہوا دینے والے اکاونٹس کے خلاف کارروائی کے لئے انہی کیلیفورنیا کی کمپنیوں سے رابطہ کرتی ہے، تو یہ پلیٹ فارمز صاف انکار کردیتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ حکومتِ پاکستان کے دائرہ اختیار کو نہیں مانتے کیونکہ پاکستان انکا مالک نہیں ہے۔

اگر میں آپ کو یہ سارا ڈیجیٹل کھیل بالکل سادہ اور روزمرہ کے الفاظ میں سمجھاؤں تو سوچیں کہ فرض کیا آپ ایک بہت بڑے محلے میں رہتے ہیں جس کے پاس اپنا کوئی کمیونٹی ہال یا بیٹھک نہیں ہے۔ ہر شادی، ہر جرگہ، ہر کاروباری لین دین اور سلامتی سے جڑا ہر مشورہ ایک ایسے کرائے کے ہال کے اندر ہوتا ہے جس کا مالک سمندر پار بیٹھا ایک امیر جاگیردار ہے۔ جب بھی ہمارے محلے کا ایک دکاندار اس ہال کے اندر کسی دوسرے دکاندار کو سو روپے دیتا ہے تو وہ غیر ملکی مالک مکان تیس روپے اپنا کمیشن کاٹ کر جیب میں ڈال لیتا ہے اور ستر روپے آگے پکڑا دیتا ہے۔ ہم یہ سمجھے بغیر ستر روپے ملنے پر جشن مناتے ہیں کہ یہ ہمارا ہی پیسہ ہے جو نقصان کے ساتھ ہمارے درمیان گھوم رہا ہے۔ پھر ایک صبح اس غیر ملکی مالک مکان کی کسی سے لڑائی ہوجاتی ہے اور وہ دروازوں پر تالے لگا کر اعلان کردیتا ہے کہ آج کے بعد جس بندے نے بھی محلے کے چوکیدار کا نام لیا، اسے اٹھا کر گلی میں باہر پھینک دیا جائے گا۔

جب آپ کا قومی چوراہا کسی غیر ملکی مالک مکان سے کرائے پر لیا گیا ہو تو آپ کے پاس خودمختاری نہیں ہوتی، آپ کے پاس صرف ایک عارضی لیز ہوتی ہے جسے جب چاہے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ساری بات صرف اتنی سی ہے۔

اس نظام کی قیمت صرف سیاسی سنسرشپ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا دیوہیکل معاشی ضیاع بھی ہے جس کا جائزہ ہمارے عوامی مباحثوں میں شاذ و نادر ہی لیا جاتا ہے۔ جب بھی مقامی پلیٹ فارم کی بات اٹھائی جاتی ہے تو ناقدین دلیل دیتے ہیں کہ یوٹیوب اور فیس بک ہمارے نوجوانوں کے لئے پاکستان میں بیرونی ڈالرز لاتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے رکیں اور حساب لگائیں کہ یہ پیسہ اصل میں آتا کہاں سے ہے۔ چونکہ پاکستانی کریئیٹرز کی بھاری اکثریت اردو میں مواد بناتی ہے، اسلئے انکی ویڈیوز پر چلنے والے اشتہارات وال سٹریٹ کی کمپنیاں نہیں خریدتیں۔ یہ اشتہارات مقامی پاکستانی کمپنیاں خریدتی ہیں جیسے دراز، ٹیلی نار، جیز، ٹپال، سپریم، ایزی پیسہ، جیز کیش، زمین ڈاٹ کام اور او ایل ایکس۔ جب کوئی پاکستانی برانڈ پاکستانی صارفین کو یوٹیوب پر اشتہار دکھانے کے لئے سو روپے ادا کرتا ہے تو سلیکون ویلی 30 فیصد حصہ سیدھا امریکہ لے جاتی ہے اور 70 فیصد پاکستانی کریئیٹر کو واپس دیتی ہے۔ ملک میں کوئی نئی غیر ملکی دولت داخل نہیں ہوتی؛ اسکے برعکس پاکستان کے مقامی اشتہاری روپے کا تیس فیصد حصہ نچوڑ کر کیلیفورنیا بھیج دیا جاتا ہے۔

ذرا موازنہ کریں کہ سلیکون ویلی کتنے شوق سے اشتہارات بٹورنے والی سوشل ایپس کو پاکستان میں دھکیلتی ہے، جبکہ مغربی مالیاتی اور ای کامرس کے ٹھیکیدار ہمارے اصل مال بنانے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ پے پال (PayPal) جیسے بنیادی پیمنٹ سسٹم کو آج بھی قانونی بہانوں کے نام پر پاکستان سے باہر رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے فری لانسرز کو اپنی محنت کی کمائی گھر لانے کے لئے بھی نا ختم ہونے والی رکاوٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

دوسری طرف ہمارے صنعتی مراکز سیالکوٹ اور فیصل آباد میں پاکستانی فیکٹری مالکان اور مزدور اپنا خون پسینہ ایک کر کے پانچ ہزار روپے میں عالمی معیار کی چمڑے اور سپورٹس جیکٹیں تیار کرتے ہیں۔ مغربی مڈل مین یہ تیار شدہ مال کوڑیوں کے بھاؤ خریدتے ہیں، کالر پر نائیکی یا زارا کا لیبل لگاتے ہیں، اور پاکستانی مزدور کی بنائی ہوئی وہی جیکٹ ایمیزون اور ای بے پر ساٹھ ہزار روپے میں بیچتے ہیں۔ کاریگری پاکستانی ہے، لیکن ساٹھ ہزار روپے کا منافع سیدھا مغربی بینک اکاونٹس میں جاتا ہے کیونکہ ڈیجیٹل منڈی انکے کنٹرول میں ہے۔

روس اور چین نے طوفان آنے سے بہت پہلے اس سٹریٹجک کمزوری کو پہچان لیا تھا۔ ماسکو نے فیس بک اور یوٹیوب کی جگہ لینے کے لئے VK اور اپنا ویڈیو انفراسٹرکچر کھڑا کیا، جبکہ بیجنگ نے وی چیٹ، ویبو اور علی بابا کو اس پیمانے پر تعمیر کیا کہ آج چین میں ایک ریڑھی والا بھی مقامی ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل پیمنٹ وصول کرتا ہے اور ملک سے ایک پائی بھی باہر نہیں نکلتی۔

البتہ یہاں ایک عملی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کل اکیلا اپنی کوئی سوشل میڈیا ایپ بنا لے تو اسے استعمال کون کرے گا؟ اگر ہم اکیلے ہی اپنی مقامی ایپ میں بیٹھ جائینگے تو کیا ہم دنیا سے کٹ نہیں جائینگے اور اپنی عالمی آواز کھو نہیں بیٹھیں گے؟

یہ ایک بالکل جائز خدشہ ہے، اور اسکا جواب یہ ہرگز نہیں ہے کہ پاکستان خود کو تنہا کر لے۔ پاکستان کے پاس پہلے ہی ایسے قابل سافٹ وئیر انجینئرز موجود ہیں جو ہر روز سلیکون ویلی کے لئے بیک اینڈ سسٹمز بناتے ہیں۔ سی پیک (CPEC) کے تحت ہم پہلے ہی چین کے ساتھ ملکر فائبر آپٹک کیبلز بچھا رہے ہیں اور انفراسٹرکچر بنا رہے ہیں، جبکہ ترکیہ، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا، ملائیشیا، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تاریخی دفاعی اور سٹریٹجک شراکت داریاں قائم کر رہے ہیں۔ تنہائی میں کوئی چھوٹی سی مقامی ایپ بنانے کے بجائے، پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور بیلٹ اینڈ روڈ کے پلیٹ فارم پر چین اور اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ہاتھ ملا کر ایک مشترکہ، کثیر الملکی سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کامرس پلیٹ فارم لانچ کرنا چاہئے۔

ذرا سوچیں کہ اس دن کیا ہوگا جب چین، روس، پاکستان، ترکیہ، عرب دنیا، ایران، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے تین سے چار ارب انسان ایک ہی ڈیجیٹل چوراہے پر جمع ہونگے۔ سب سے پہلے تو نیٹ ورک ایفیکٹ کا مسلہ راتوں رات ختم ہوجائے گا اور ہمارے کانٹینٹ کریئیٹرز کو اربوں صارفین کی ایسی اشتہاری مارکیٹ مل جائے گی جہاں علاقائی کمپنیوں کا پیسہ ہماری اپنی معیشتوں کے اندر رہے گا۔ دوسرے نمبر پر، کسی ایک مغربی پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں ملے گا کہ وہ عالمی تھانیدار بن کر کشمیر، فلسطین یا ہمارے خودمختار دفاعی اداروں کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو دبا سکے۔

 تیسرے نمبر پر، سیالکوٹ، فیصل آباد اور کراچی کے صنعتکار مغربی مڈل مینوں کی منت سماجت کرنے کے بجائے اپنے پاکستانی برانڈز کے نام سے براہِ راست ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے صارفین کو اپنا مال بیچ سکیں گے۔ اور آخر میں، ہم اس ثقافتی غلامی کا خاتمہ کر سکیں گے جس کی وجہ سے آج ہر پاکستانی نوجوان امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے حکمرانوں کے نام تو جانتا ہے، لیکن ہمارے بالکل ساتھ جڑے ہمسایہ ممالک تاجکستان، ترکمانستان، کرغزستان یا آذربائیجان کے صدور کے نام اور انکی ثقافت سے ناواقف ہے۔

آج کیلیفورنیا کے ایک الگورتھم نے ایک ایرانی جنرل کی وردی کو جواز بنا کر تہران کی سفارتی میز پر بیٹھی پاکستانی قیادت کی ویڈیو کو سنسر کیا ہے۔ کل کو بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ہوائیں اسی ڈیجیٹل کل سوئچ (kill-switch) کا رخ براہِ راست ریاستِ پاکستان اور اسکی مسلح افواج کی طرف موڑ سکتی ہیں۔ عقلمند قومیں سیلاب کا پانی سر پر آنے کے بعد کشتی بنانا شروع نہیں کرتیں، بلکہ افق پر بادلوں کے آثار دیکھتے ہی اپنی تیاری مکمل کرتی ہیں۔
حقائق آپ کے سامنے ہیں!

editor

Related Articles