گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے لوئر ساؤتھ وزیرستان کے انگور اڈا بازار اور رہائشی علاقوں پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاک فوج کے بروقت اور دندان شکن جواب کو سراہا ہے اور واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ لوئر ساؤتھ وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈا بازار اور اس سے ملحقہ رہائشی علاقوں پر افغان طالبان کی جانب سے اچانک اور بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے گھروں اور کاروباری مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں اس نوعیت کی کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک شعوری سازش بھی ہیں۔
مقامی سطح پر اس حملے کے بعد شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے برقت پوزیشن سنبھال کر حالات کو قابو میں کیا۔
پاک فوج کا فوری اور فیصلہ کن جواب
سرحدی خلاف ورزی اور شہریوں پر حملے کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے انتہائی پھرتی، قوت اور فیصلہ کن انداز میں جوابی کارروائی کی۔
سیکیورٹی فورسز نے دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس بروقت اور مؤثر عسکری ردعمل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود، دفاعی حصار اور قومی سلامتی ناقابل تسخیر ہیں اور ملک کی سرحدوں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔
خیبر پختونخوا کی قربانیاں
خیبر پختونخوا کی سر زمین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ کی سب سے بھاری قیمت چکائی ہے۔ صوبے کے غیور عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے ہزاروں لازوال قربانیاں دے کر ملک و قوم کو محفوظ بنایا ہے۔
اس خطے کے باسیوں نے امن کے لیے جو خون بہایا ہے، اس پر کسی کو بھی ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر خیبر پختونخوا نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ صوبے کے عوام اپنے دفاع اور سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔
مغربی سرحدوں پر رونما ہونے والی حالیہ کشیدگی اس امر کی غماز ہے کہ ہمسایہ ممالک کی جانب سے سرحدی انتظام اور امن و امان کے معاملات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
افغان عبوری حکومت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری ہرگز نہ سمجھا جائے۔ کسی بھی جارحانہ اقدام کا مقابلہ ریاست کی پوری طاقت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ کیا جائے گا۔
سیاسی قیادت، عسکری اداروں اور پوری قوم کا ایک ہی بیانیہ اور ایک ہی صف میں کھڑا ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستان کو درپیش کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ وطن کے دفاع کی یہ شمع ان قربانیوں کے چراغوں سے روشن رہے گی جو اس مٹی کے بیٹوں نے جلائی ہیں۔
