میٹرک پاس خواتین کے لیے خوشخبری، 3 ماہ کی ٹریننگ اور ماہانہ وظیفہ

میٹرک پاس خواتین کے لیے خوشخبری، 3 ماہ کی ٹریننگ اور ماہانہ وظیفہ

پنجاب حکومت نے دیہی خواتین کو ہنرمند اور خودمختار بنانے کے لیے ’شی تھریڈ‘ ٹیکسٹائل ٹریننگ پروگرام کے تحت رجسٹریشن شروع کر دی ہے۔ پروگرام میں منتخب خواتین کو تین ماہ کی تربیت کے دوران 15 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ وومن ڈویلپمنٹ نے یہ پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد دیہی علاقوں کی خواتین کو ہنر سکھا کر باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق اب تک 1,150 دیہی خواتین اس پروگرام کے تحت ٹیکسٹائل ٹریننگ مکمل کر چکی ہیں، جبکہ جون تک 2,500 خواتین کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پروگرام کے تحت لاہور میں ملتان روڈ کے قریب واقع شاہکام انڈسٹریز میں تین ماہ کا تربیتی کورس شروع کیا جا رہا ہے۔ اس دوران خواتین کو کلاس روم تعلیم کے ساتھ عملی تربیت بھی دی جائے گی۔

ٹریننگ میں صنعتی سلائی مشین آپریٹر اور اپیرل سپروائزر جیسے شعبوں میں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مہارت سکھائی جائے گی۔ کورس مکمل کرنے والی خواتین کو ٹیکسٹائل انڈسٹری میں روزگار فراہم کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

کون سی خواتین درخواست دے سکتی ہیں؟

پروگرام میں داخلے کے لیے درج ذیل شرائط مقرر کی گئی ہیں امیدوار خاتون کی عمر 18 سے 45 سال ہونی چاہیے۔

  1. پنجاب کا ڈومیسائل لازمی ہے۔

  2. کم از کم تعلیمی قابلیت میٹرک مقرر کی گئی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں:ملازمین کے حقوق پر تاریخی فیصلہ، لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دیدیا

رجسٹریشن کیسے کروائیں؟

خواہشمند خواتین اپنا قومی شناختی کارڈ اور پنجاب ڈومیسائل ساتھ لے کر ملتان روڈ لاہور کے قریب واقع شاہکام انڈسٹریز میں درخواست جمع کرا سکتی ہیں۔

ابتدائی تصدیق کے بعد داخلے کے لیے حلف نامہ بھی جمع کروانا ہوگا۔ مزید معلومات کے لیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز، یونین کونسل سیکرٹریز اور ضلعی دفاتر سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ دیہی خواتین کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق تربیت دے کر باوقار روزگار کے قابل بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق شی تھریڈ پروگرام کے ذریعے خواتین کو ہنر سکھانے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

editor

Related Articles