موقع پرستی کی بدترین مثال، مراعات ملیں تو سب جائز، باہر ہوں تو ریاست دشمنی، فضل الرحمان کا منافقانہ کردار سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں

موقع پرستی کی بدترین مثال، مراعات ملیں تو سب جائز، باہر ہوں تو ریاست دشمنی، فضل الرحمان کا منافقانہ کردار سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کی زد میں

سیکیورٹی اداروں اور سیاسی مبصرین کی جانب سے جاری کردہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور قومی سلامتی کے امور پر جے یو آئی (ف) کا حالیہ بیانیہ ملکی مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے مبینہ فکری تضادات اور عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت نے ملک میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی مہم (جیسے عزمِ استحکام) کو شدید سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔

تحقیقاتی حلقوں کے مطابق، جے یو آئی (ف) کی جانب سے خیبر پختونخوا اور خاص طور پر قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی آپریشنز کو متنازع بنانا عسکریت پسندوں کو سیاسی کور (Political Cover) فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ جب بھی پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کرتے ہیں

 مولانا فضل الرحمان “مذاکرات” اور “مقامی آبادی کے تحفظ” کی آڑ لے کر اس مہم کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں عسکریت پسند گروہوں کو منظم ہونے کا موقع ملتا ہے اور عام عوام کے ذہنوں میں ریاستی اداروں کے خلاف شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، جو کہ ملکی بقا کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری محکمے کو ذاتی جاگیر بنانے کا ہولناک انکشاف کٹھ پتلی وزیر عطا الرحمان کی قلم سے ہونے والی بھرتیوں کی بلیک لسٹ فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تیار ہونے کا بڑا راز کھل گیا

سیاسی مبصرین مولانا فضل الرحمان کی سیاست کو “موقع پرستی اور فکری تضاد کا بدترین نمونہ” قرار دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جے یو آئی (ف) اقتدار کا حصہ ہوتی ہے یا اسے وفاق و صوبوں میں مراعات حاصل ہوتی ہیں، تو اسے ملکی سلامتی، فاٹا انضمام یا ریاستی پالیسیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن جیسے ہی وہ اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہوتی ہے مولانا فضل الرحمان کو اچانک قبائلی عوام کے حقوق یاد آ جاتے ہیں اور وہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ خود کو آئین اور جمہوریت کا علمبردار کہتے ہیں، جبکہ دوسری طرف نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ اور سیکیورٹی اداروں پر حملہ کرنے والے عناصر کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات کی وکالت کر کے اپنے ہی اصولوں کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔

 اپنے مدارس کے نیٹ ورک اور مخصوص ووٹ بینک کو بچانے کے لیے مولانا فضل الرحمان ملکی سلامتی کے اداروں کو مسلسل بلیک میل کر رہے ہیں۔ اسمگلنگ مافیا کے خلاف کارروائیوں پر واویلا مچانا اور سرحدی اضلاع میں ایمرجنسی اقدامات کو متنازع بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ جے یو آئی (ف) کی قیادت کے لیے قومی مفادات سے زیادہ اپنی سیاسی بقا عزیز ہے۔ مولانا کا یہ منفی بیانیہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی ہزاروں قربانیوں کی توہین ہے، بلکہ یہ پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے کی ایک گہری پسِ پردہ سازش کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles