ٹرمپ کی سیاسی طاقت کا امتحان آج، امریکی سینیٹ کی 11 نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ

ٹرمپ کی سیاسی طاقت کا امتحان آج، امریکی سینیٹ کی 11 نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے آج 3 نومبر کو ووٹنگ ہو رہی ہے۔  انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن اور اپوزیشن ڈیموکریٹس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

انتخابی نتائج نہ صرف کانگریس میں دونوں جماعتوں کی پوزیشن طے کریں گے بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ دو سالہ حکومتی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔ سینیٹ کی 11 اہم نشستیں ایسی ہیں جن کے نتائج ایوان میں اکثریت کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :وسط مدتی انتخابات،ریپبلکنز کی اکثریت کو خطرہ،ٹرمپ نے قبل از وقت ووٹ ڈال دیا

ریپبلکنز اس وقت سینیٹ میں 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت رکھتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے اتحادیوں کی مجموعی تعداد 47 ہے۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار نشستوں کا خالص اضافہ کرنا ہوگا۔

ٹرمپ کی مقبولیت اور مہنگائی انتخابی مہم کے اہم موضوعات

انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، مہنگائی، ایران جنگ اور حکومتی پالیسیوں پر عوامی بے چینی اہم موضوعات بنے رہے ہیں۔

انتخابی جائزوں کے مطابق ان عوامل نے بعض ایسی ریاستوں میں بھی مقابلہ سخت کردیا ہے جہاں روایتی طور پر ریپبلکن امیدواروں کو برتری حاصل رہی ہے۔

ڈیموکریٹس ان حالات کو سینیٹ میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب ریپبلکنز اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

شمالی کیرولائنا اور اوہائیو میں سخت مقابلہ

شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر اور ریپبلکن امیدوار مائیکل واٹلی کے درمیان مقابلہ خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ انتخابی جائزوں میں کوپر کو اس ریاست میں نسبتاً مضبوط پوزیشن حاصل ہے۔

اوہائیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن کی دوبارہ سینیٹ میں واپسی کی کوشش جاری ہے۔ ان کا مقابلہ ریپبلکن امیدوار جان ہسٹڈ سے ہے۔ یہ نشست بھی دونوں جماعتوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو اور ریپبلکن کین پیکسٹن کے درمیان مقابلہ بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ ٹیکساس روایتی طور پر ریپبلکنز کا مضبوط انتخابی مرکز رہا ہے۔

مشی گن، مین اور دیگر ریاستیں بھی توجہ کا مرکز

مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید اور ریپبلکن مائیک راجرز کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ اس نشست پر دونوں جماعتیں کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کے ساتھ ویتنام جیسی لمبی جنگ نہیں ہوگی، مذاکرات ناکام رہے تو فوجی کارروائی کی جائے گی،ٹرمپ

مین میں ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن سے ہے۔ الاسکا، کنساس اور آئیووا میں بھی انتخابی مقابلے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹ امیدوار کرس پاپاس اور ریپبلکن جان سنونو کے درمیان مقابلہ ہے۔ جنوبی کیرولائنا میں ریپبلکن ڈارلین گراہم اور ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز انتخابی میدان میں ہیں۔

جارجیا میں ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف بھی اپنی نشست برقرار رکھنے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

سینیٹ کا کنٹرول ٹرمپ کے لیے کیوں اہم ہے؟

امریکی سیاسی نظام میں سینیٹ اور ایوان نمائندگان قانون سازی، حکومتی نگرانی اور اہم تقرریوں کی منظوری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر ریپبلکنز سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی اور اہم حکومتی تقرریوں میں اپنی جماعت کی حمایت حاصل رہے گی۔

اس کے برعکس ڈیموکریٹس کی اکثریت قائم ہونے کی صورت میں حکومتی پالیسیوں پر نگرانی اور قانون سازی کے معاملات میں سیاسی کشمکش بڑھ سکتی ہے۔
اب تمام نظریں امریکی ووٹرز پر لگی ہیں۔

ان کے فیصلے سے طے ہوگا کہ کانگریس میں کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوتی ہے اور صدر ٹرمپ کو اپنے باقی دورِ صدارت میں کس نوعیت کے سیاسی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

editor

Related Articles