خلیجی خطے میں امن یا نئی کشیدگی؟ سعودی ولی عہد کا چینی صدر کو اہم پیغام

خلیجی خطے میں امن یا نئی کشیدگی؟ سعودی ولی عہد کا چینی صدر کو اہم پیغام

سعودی عرب اور چین نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے چینی صدر شی جن پنگ کو خصوصی پیغام بھیجا ہے۔

پیغام میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، انہیں مزید مضبوط بنانے کے امکانات اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی ولی عہد کا یہ پیغام سعودی قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العیبان نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کے دوران پہنچایا۔

چین سعودی تعلقات  

ملاقات میں دونوں ملکوں کے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کے امکانات زیر بحث آئے۔ سعودی قیادت کی جانب سے تعلقات کو مزید وسعت دینے کا پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورت حال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :چینی سیاحوں کے لیے سعودی عرب کی بڑی پیشکش، اہم پیش رفت سامنے آگئی

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ خلیجی خطہ ایک بار پھر جنگ اور امن کے درمیان اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریق مذاکرات کا راستہ اختیار کرکے کشیدگی اور دشمنی ختم کریں گے۔

چین کا امن پر زور

وانگ یی نے خطے میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کو بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کرنے چاہئیں۔

انہوں نے علاقائی توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بحری تجارتی راستوں کا تحفظ بھی ضروری ہے تاکہ خطے اور عالمی معیشت کو ممکنہ خطرات سے بچایا جاسکے۔

چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ چین سعودی عرب کے ساتھ مل کر دوطرفہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔

خلیجی خطے کی صورت حال 

سعودی ولی عہد کا چینی صدر کے نام پیغام دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب چین نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی اہمیت اجاگر کی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سعودی عرب اور پاکستان میں صنعتی،تعلیمی اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق

توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارتی راستوں کا تحفظ بھی اس ملاقات کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔ خلیجی خطے میں کسی بھی بڑی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی اور تجارت پر مرتب ہوسکتے ہیں۔

editor

Related Articles