رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نیٹ ورک سے متعلق اہم دعوے کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا خود پارٹی چلا رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کرنا درست نہیں کہ سوشل میڈیا پر سرگرم بعض افراد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف نے بطور جماعت آج تک ان عناصر سے باضابطہ لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا۔ ان کے مطابق پارٹی کو یہ وضاحت بہت پہلے کر دینی چاہیے تھی۔
سوشل میڈیا سرگرمیوں پر سوالات
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پر سرگرم بعض افراد کو ایسی شخصیات کی حمایت حاصل ہے جو بانی پی ٹی آئی سے فیصلے کرواتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کا اثر نمایاں ہے۔ پارٹی کو ان سرگرمیوں سے بروقت لاتعلقی ظاہر کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے معاملے پر پارٹی کا مؤقف دوہرا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف بعض سرگرم افراد سے تعلق تسلیم نہیں کیا جاتا جبکہ دوسری طرف بطور جماعت واضح اعلان بھی سامنے نہیں آیا۔
پارٹی فیصلوں کا اختیار کس کے پاس؟
رکن قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے اندر فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں سنجیدگی کا فقدان ہے اور اہم فیصلے بانی پی ٹی آئی کے نام پر اڈیالہ جیل کے باہر ہوتے ہیں۔
شیر افضل مروت نے بیرسٹر گوہر کے کردار پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں چیئرمین شپ کے علاوہ کوئی اختیار نہیں دیا۔
پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کہاں سے چلتے ہیں؟
شیر افضل مروت نے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے جغرافیائی محل وقوع سے متعلق بھی دعوے کیے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا فالوورز کی سب سے بڑی تعداد یورپ میں موجود ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ امریکا سے آپریٹ ہوتا ہے۔ ان بیانات کے ذریعے انہوں نے سوشل میڈیا سرگرمیوں کے انتظام اور نگرانی سے متعلق سوالات اٹھائے۔
اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش
شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں۔ تاہم پارٹی کے اندر سنجیدگی کی کمی اور سوشل میڈیا سے متعلق متضاد مؤقف اس مقصد کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔