امریکی وسط مدتی انتخابات کے میدان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، شدید مہنگائی اور ایران جنگ پر عوامی شدید ناراضی کے باوجود ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک بڑی اور تاریخی انتخابی کامیابی حاصل کرنا آسان دکھائی نہیں دے رہا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، ڈیموکریٹس کی ممکنہ بڑی فتح کی راہ میں چھ اہم ترین سیاسی اور انتخابی رکاوٹیں حائل ہو چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیموکریٹس کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ایوانِ نمائندگان میں مقابلے کی محدود نشستیں اور سینیٹ میں درپیش انتخابی معرکہ ہے، جہاں معمولی سی غلطی بھی نشتیں کھونے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی ووٹ بینک یعنی نوجوانوں، سیاہ فام اور ہسپانوی (ہسپانک) ووٹرز کی انتخابات میں ممکنہ کم شرکت بھی ان کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ بنی ہوئی ہے۔
دوسری جانب، ریپبلکنز کو انتخابی مہم کے لیے مالی وسائل اور خطیر فنڈنگ میں ڈیموکریٹس پر نمایاں اور واضح برتری حاصل ہے۔
مزید برآں، ماضی کی انتخابی تاریخ اور سرویز سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ریپبلکن ووٹرز کی حتمی حمایت کو اکثر سروے تخمینوں میں کم ظاہر کیا جاتا رہا ہے، جو الیکشن کے دن سرپرائز کا باعث بنتا ہے۔
سیاسی منظر نامے کو مزید تند و تیز بناتے ہوئے، ریپبلکن امیدواروں نے ڈیموکریٹس کو ‘سوشلسٹ’ اور ‘انتہا پسند’ قرار دینے کا جارحانہ بیانیہ اپنایا ہے، تاکہ غیر جانبدار اور آزاد ووٹرز کی حمایت اپنے نام کی جا سکے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام تر چیلنجز کے باعث، اگرچہ ڈیموکریٹس کانگریس میں کچھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں، تب بھی ان کے لیے 2018ء جیسی سوئپنگ یا بڑی انتخابی کامیابی کا دہرانا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں چند گھنٹے رہ گئے، سروے اور پول میں ڈیمو کریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں برتری ملنے کا امکان ہے ، سینیٹ کی سات اہم نشستوں پر سخت مقابلہ متوقع ہے، امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی پر ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کے بغیر حکمرانی کی حکمت عملی تیار کرلی۔