خیبر پختونخوا میں انتظامی اصلاحات کیلئے بڑا فیصلہ، 12 اضلاع میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کے تبادلوں پر مستقل پابندی عائد اسے بڑی خبر کے فارمیٹ میں بنانا ہے جس کا ڈیزائن شیئر کر دیا ہے جو کہ وزیر اعظم والا ہے اس ڈیزائن کو صرف نمونے کے طور پر دیا ہے اس

خیبر پختونخوا میں انتظامی اصلاحات کیلئے بڑا فیصلہ،  12 اضلاع میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کے تبادلوں پر مستقل پابندی عائد اسے بڑی خبر کے فارمیٹ میں بنانا ہے جس کا ڈیزائن شیئر کر دیا ہے جو کہ وزیر اعظم  والا ہے اس ڈیزائن کو صرف نمونے کے طور پر دیا ہے اس

 خیبر پختونخوا کے 12 نامزد اضلاع میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کے تبادلوں، تعیناتیوں، ایڈجسٹمنٹ اور ری لوکیشن پر آئندہ احکامات تک پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس حوالے سے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں تمام متعلقہ حکام کو پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق یہ پابندی ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی روشنی میں عائد کی گئی ہے۔ تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ نوٹیفکیشن میں دی گئی ہدایات پر من و عن عمل کیا جائے اور پابندی کی خلاف ورزی سے گریز کیا جائے۔

محکمہ تعلیم کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندی کا اطلاق صرف انتظامی افسران تک محدود نہیں ہوگا بلکہ محکمہ تعلیم کے ماتحت تمام متعلقہ اداروں اور ضلعی تعلیمی افسران بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔ ان اضلاع میں تعینات سرکاری افسران اور اہلکاروں کے تبادلوں، نئی تعیناتیوں، ایڈجسٹمنٹ اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے تمام معاملات آئندہ احکامات تک پابندی کی زد میں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وزارتوں اور چندے کے اربوں روپے کیسے لوٹے؟ فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں اور بانی رہنماؤں کی بغاوت کی اندرونی کہانیاں سامنے آ گئی

پابندی کے تحت شامل 12 اضلاع میں باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر، جنوبی وزیرستان لوئر، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔

محکمہ تعلیم نے تمام متعلقہ انتظامی و تعلیمی حکام کو ہدایت کی ہے کہ ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کے نوٹیفکیشن پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، جبکہ پابندی آئندہ احکامات تک برقرار رہے گی۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles