امریکا کے نو منتخب مسلمان سینیٹر عبدالرحمان محمد السید نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے امریکی پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایک ایسی جنگ میں الجھ چکا ہے جس کا آغاز ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، ماضی کے امریکی صدور بھی ایران کے ساتھ جنگ سے گریز کرتے رہے ہیں۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عبدالرحمان محمد السید نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنا ایک غیر ضروری فیصلہ تھا، جس کے نتائج اب امریکا کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق سابق امریکی صدور نے ایران کے ساتھ براہ راست جنگ سے بچنے کی پالیسی اختیار کیے رکھی، تاہم موجودہ صورتحال نے امریکا کو ایک ایسے تنازع میں دھکیل دیا ہے جس سے گریز کیا جا سکتا تھا۔
اسرائیلی حکومت پر بھی تنقید
امریکی سینیٹر نے دعویٰ کیا کہ ایک غیر ملکی وزیراعظم مسلسل امریکا کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ انہوں نے اس مؤقف پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ دیگر ممالک جیسا برتاؤ کیا جانا چاہیے اور اسے امریکی پالیسی میں غیر معمولی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔
عبدالرحمان محمد السید نے امریکا کی جانب سے اسرائیل کو فوجی معاونت اور جنگی سازوسامان کی فراہمی پر بھی اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو فروخت کیا جانے والا امریکی اسلحہ نسل کشی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، اس لیے امریکی حکومت کو اپنی فوجی امداد اور اسلحے کی فروخت سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
مصر کو امریکی امداد روکنے کا مطالبہ
سینیٹر نے مصر کے حوالے سے بھی امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث حکومت کو امریکی مالی معاونت نہیں ملنی چاہیے۔ ان کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی کے معاملے پر کسی حکومت کا احتساب ضروری ہے اور امریکی امداد کو ان اصولوں سے مشروط ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی حکومت کی پالیسیوں یا اقدامات پر تنقید کو متعلقہ ملک یا اس کے عوام کے خلاف تعصب قرار دینا درست نہیں۔ حکومتوں کے فیصلوں پر تنقید اور کسی قوم کے خلاف نفرت کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔