سی ای او آزاد ڈیجیٹل کو سنگین دھمکیاں فیس بک انتظامیہ نے این سی سی آئی اے کو جے یو آئی کے ڈیڑھ سو بڑے سوشل میڈیاکی لوکیشنز اور تفصیلات فراہم کردیں ،بڑا آپریشن متوقع
Home - اہم خبریں - سی ای او آزاد ڈیجیٹل کو سنگین دھمکیاں فیس بک انتظامیہ نے این سی سی آئی اے کو جے یو آئی کے ڈیڑھ سو بڑے سوشل میڈیاکی لوکیشنز اور تفصیلات فراہم کردیں ،بڑا آپریشن متوقع
این سی سی آئی اے کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 17 چھاپے مارے گئے ہیں جس میں جے یو آئی ف کے متعدد کارکنان گرفتار کیے گئے جبکہ رات گئے اس حوالے سے بڑا آپریشن متوقع ہے ۔
قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر آن لائن ہراسانی، بدسلوکی اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے خلاف ملک گیر آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں آزاد ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مصور عباسی اور ان کے اہل خانہ کو موصول ہونے والی دھمکیوں کے بعد شروع کی گئی ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل کے سی ای او مصور عباسی نے اپنے اور اہل خانہ کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف این سی سی آئی اے میں باقاعدہ درخواست جمع کرائی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا جے یو آئی کی طرف سے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق معاملے کی تحقیقات کے دوران این سی سی آئی اے نے فیس بک کی سیکیورٹی اور ڈیجیٹل ٹیم سے رابطہ کیا، جس کے بعد فیس بک انتظامیہ نے جے یو آئی سے تعلق رکھنے والے تقریباً 150 سے زائد بڑے اور فعال سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے لاگز، آئی پی ایڈریسز اور تکنیکی لوکیشنز کی تفصیلات فراہم کر دیں،فراہم کردہ ڈیجیٹل ڈیٹا اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر این سی سی آئی اے کی ٹیموں کی طرف سے رات گئے بڑا آپریشن متوقع ہے
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی خصوصی ٹیموں نے اب تک 17 کامیاب چھاپے مارے ہیں، جن کے دوران جے یو آئی (ف) سے تعلق رکھنے والے متعدد فعال سوشل میڈیا کارکنان اور مختلف پیجز کے منتظمین کو حراست میں لیا گیا ہے۔
کارروائیوں کے دوران گرفتار افراد کے قبضے سے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی ضبط کیے گئے ہیں، جنہیں فارنزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے اعلیٰ حکام کے مطابق کارروائی کسی مخصوص گروہ کے خلاف نہیں بلکہ سائبر بُلنگ، آن لائن ہراسانی اور شہریوں کی سیکیورٹی کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ موصول ہونے والی اضافی لوکیشنز اور ڈیجیٹل معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائیاں متوقع ہیں، جن کے دوران مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں،ایجنسی نے سوشل میڈیا صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن ہراسانی اور قانون کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔