اسعد محمود کے دور میں اربوں کے مشکوک ٹھیکوں اور کِک بیکس کا معاملہ سامنے آگیا

اسعد محمود کے دور میں اربوں کے مشکوک ٹھیکوں اور کِک بیکس کا معاملہ سامنے آگیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے دورِ وزارت میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے اربوں روپے مالیت کے ٹھیکوں، مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری ملازمتوں میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق اہم دستاویز سامنے آگئی ہے۔

7 نومبر 2026 کی تاریخ سے منسوب قومی احتساب بیورو (نیب) کی ایک دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسعد محمود کے دورِ وزارت، اپریل 2022 سے اگست 2023 کے دوران مختلف شاہراہوں کے تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے مخصوص ٹھیکیداروں کو دیے گئے، جن کے عوض مبینہ طور پر مالی فوائد، قیمتی گاڑیوں اور رہائشی جائیداد کی فراہمی کے معاملات بھی زیرِ سوال آئے ہیں۔ تاہم اس دستاویز کی نیب سے آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

دستاویز کے مطابق مبینہ طور پر فائدہ اٹھانے والے ٹھیکیداروں میں امان اللہ خان ولد محمد یونس، عمر جان اور منظور آفریدی کے نام شامل ہیں۔ ان افراد کو مختلف منصوبوں کے تحت مجموعی طور پر 19 ارب 28 کروڑ روپے مالیت کے ٹھیکے دیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

دستاویز میں درج تفصیلات کے مطابق ٹھیکیدار امان اللہ خان کو این 55 اور انڈس بائی پاس منصوبوں کے تحت 8 ارب 15 کروڑ روپے، عمر جان کو این 50 سی پیک کوریڈور کے تحت 7 ارب 15 کروڑ روپے جبکہ منظور آفریدی کو خیبر پختونخوا کی رابطہ شاہراہوں کے منصوبوں میں 3 ارب 98 کروڑ روپے کے ٹھیکے دیے جانے کا ذکر ہے۔

سامنے آنے والی دستاویز میں ان ٹھیکوں کی منظوری، بولی کے عمل، ادائیگیوں اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں این ایچ اے سے 2022 اور 2023 کے دوران جاری کیے گئے ٹھیکوں کی بڈنگ ایویلیوایشن رپورٹس، ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاسوں کی کارروائی اور ادائیگیوں کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایات بھی درج ہیں۔

دستاویز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس فور میں واقع ایک رہائش گاہ، جس میں مولانا فضل الرحمان مقیم ہیں، امان اللہ خان کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ دستاویز میں اس جائیداد اور مبینہ طور پر فراہم کی گئی لگژری گاڑیوں کو سرکاری ٹھیکوں کے بدلے ممکنہ مالی فوائد سے جوڑتے ہوئے تحقیقات کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم جائیداد کی بے نامی حیثیت یا اسے غیر قانونی فائدے کے طور پر فراہم کیے جانے کا الزام آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔

Related Articles